بی این پی کا انتخابی منشور جاری، ’فیملی کارڈ‘ سمیت 9 بڑے وعدے
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
بنگلہ دیش کی مرکزی اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات سے قبل اپنا انتخابی منشور جاری کر دیا ہے، جس میں معاشی ریلیف، سماجی بہبود اور طرزِ حکمرانی میں اصلاحات کے لیے 9 بڑے وعدے شامل کیے گئے ہیں۔
یہ منشور جمعے کی سہ پہر ڈھاکہ کے سونارگاؤں ہوٹل میں منعقدہ تقریب میں باضابطہ طور پر پیش کیا گیا، جہاں بی این پی کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان نے پارٹی رہنماؤں، کارکنان اور مدعو مہمانوں سے خطاب کیا۔
’فیملی کارڈ ‘ منشور کا مرکزی نکتہمنشور کا سب سے اہم اور نمایاں وعدہ ’فیملی کارڈ‘ پروگرام کا اجرا ہے، جس کے تحت کم آمدنی اور محروم طبقے کے خاندانوں کو ماہانہ 2,500 بنگلہ دیشی ٹکا یا اس کے مساوی ضروری اشیائے خورونوش فراہم کی جائیں گی۔
بی این پی کے مطابق ملکی مالی گنجائش بہتر ہونے پر اس رقم میں بتدریج اضافہ بھی کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے جماعتِ اسلامی کے امیر کی بی این پی چیئرمین کو براہِ راست عوامی مباحثے کی دعوت
بی این پی نے کسانوں کے لیے ’فارمر کارڈ‘متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت سبسڈی، آسان قرضے، فصلوں کا بیمہ اور زرعی پیداوار کی سرکاری سطح پر مارکیٹنگ شامل ہوگی۔
ماہی گیروں، مویشی پال حضرات اور دیہی سطح کے چھوٹے کاروباری افراد کو بھی اس نظام میں شامل کیا جائے گا۔
صحت کے شعبے میں ایک لاکھ ملازمتیںمنشور کے مطابق بی این پی اقتدار میں آ کر ملک بھر میں 1 لاکھ ہیلتھ ورکرز بھرتی کرے گی، جبکہ ضلعی اور میٹروپولیٹن سطح پر زچہ و بچہ، حفاظتی اور بنیادی صحت کی سہولیات کو وسعت دی جائے گی۔
تعلیمی اصلاحات اور پرائمری اسکولوں میں مڈ ڈے میلبی این پی نے تعلیمی نظام میں اصلاحات کا وعدہ کرتے ہوئے عملی مہارتوں، اخلاقی تربیت، ٹیکنالوجی کے فروغ، اساتذہ و طلبہ کی معاونت اور پرائمری اسکولوں میں مڈ ڈے میل پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
نوجوانوں کے لیے روزگار اور اسپورٹس کا فروغمنشور میں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، تکنیکی اور زبانوں کی تربیت، اسٹارٹ اپ اور انٹرپرینیورشپ کی حوصلہ افزائی اور سرکاری ملازمتوں میں میرٹ کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ ضلعی اور تحصیل سطح پر کھیلوں کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنا کر کھیل کو بطور پیشہ فروغ دینے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔
بی این پی نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے 10 ہزار کلومیٹر دریاؤں اور نہروں کی کھدائی، پانچ سال میں 15 کروڑ درخت لگانے اور عوامی شمولیت سے جدید ویسٹ مینجمنٹ سسٹم متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے بھارت سے معاہدوں کا الزام بے بنیاد اور سیاسی پروپیگنڈا ہے، بی این پی
منشور میں تمام مذاہب کے مذہبی رہنماؤں کے لیے فلاحی اور تربیتی پروگرام شروع کرنے، بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے، ڈیجیٹل معیشت کو مضبوط بنانے، پے پال جیسے عالمی ادائیگی نظام فعال کرنے، علاقائی ای کامرس حب قائم کرنے اور ’میڈ اِن بنگلہ دیش‘ مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کا وعدہ کیا گیا ہے۔
’عوام کے ساتھ نیا سماجی معاہدہ‘بی این پی قیادت کے مطابق یہ منشور محض انتخابی وعدوں کا مجموعہ نہیں بلکہ عوام کے ساتھ ایک نیا سماجی اور سیاسی معاہدہ ہے۔
پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ خوف، جبر اور دباؤ کی سیاست کے بجائے انصاف، جوابدہی اور جمہوری طرزِ حکمرانی کو فروغ دینا چاہتی ہے۔
بی این پی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اقتدار میں آ کر انتخابی عمل کی ساکھ بحال کی جائے گی، کرپشن اور تشدد کا خاتمہ کیا جائے گا، قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے گا اور کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی بی این پی منشور طارق رحمان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی بی این پی منشور بی این پی نے بنگلہ دیش جائے گا کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔