وزیراعلیٰ مریم نواز کا سینیٹری ورکر کے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کے واقعے کا نوٹس
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے عارف والا میں سینیٹری ورکر کے مین ہول میں گرنے کے واقعے کا نوٹس لے لیا۔
وزیراعلیٰ نے سیوریج لائن میں گیس بھرنے کے باعث سینیٹری ورکر کے انتقال پر گہرا افسوس اور سوگوار خاندان سے اظہارِ ہمدردی و تعزیت کیا۔
انہوں نے ڈپٹی کمشنر پاکپتن سے فوری رپورٹ طلب کر لی اور مین ہول میں اترنے کے لیے ضروری سیفٹی آلات استعمال نہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیے: خاتون سینیٹری ورکر نے 9 لاکھ روپے مالک کو واپس کرکے ایمانداری کی مثال قائم کردی
مریم نواز شریف نے واقعے کی ذمہ داری کا تعین کرنے اور قانونی کارروائی کے لیے ہدایات جاری کر دی ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے میں کراچی اور لاہور میں شہریوں کے کھلے مین ہول میں گرنے کے کئی واقعات پیش آئے ہیں جن میں کچھ انسانی جانیں بھی ضائع ہوگئیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سینیٹری ورکر گٹر مین ہول.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سینیٹری ورکر گٹر مین ہول سینیٹری ورکر مین ہول میں
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔