انڈونیشیا میں دنیا کا سب سے لمبا جنگلی سانپ دریافت
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
جکارتہ (ویب ڈیسک) انڈونیشیا کے علاقے ماروس میں دریافت ہونے والے ایک دیوہیکل ریٹیکیولیٹڈ پائتھن کو گینیز ورلڈ ریکارڈ نے دنیا کا سب سے لمبا جنگلی سانپ قرار دے دیا۔
گینیز ورلڈ ریکارڈ کے مطابق تفصیلی شواہد اور پیمائش کے بعد یہ تصدیق کی گئی کہ مادہ سانپ کی لمبائی 23 فٹ 8 انچ ہے، جو اب تک ریکارڈ کیے گئے تمام جنگلی سانپوں میں سب سے زیادہ ہے۔
یہ غیر معمولی سانپ اس وقت ماہرِ تحفظِ فطرت بودی پوروانتو، لائسنس یافتہ سانپ پکڑنے والے دیاز نوگراہا اور نیچرل ہسٹری فوٹوگرافر رادو فرینتیو کی نگرانی میں ہے، ماہرین کے مطابق سانپ کی صحت اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
دیاز نوگراہا اور رادو فرینتیو کا کہنا ہے کہ افواہوں پر مبنی اطلاعات موصول ہونے کے بعد وہ اس غیر معمولی حد تک طویل سانپ کی تلاش میں نکلے تھے، کامیاب دریافت کے بعد انہوں نے اس سانپ کو ’ایبو بیرن‘ یا ’دی بیرونیس‘ کا نام دیا۔
واضح رہے کہ عام طور پر ریٹیکیولیٹڈ پائتھن بالغ ہونے پر 9 فٹ 10 انچ سے لے کر 19 فٹ 2 انچ تک لمبا ہوتا ہے، تاہم ماروس میں دریافت ہونے والا یہ سانپ اپنی غیر معمولی جسامت کے باعث دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔