انڈونیشیا میں دنیا کا سب سے لمبا جنگلی سانپ دریافت
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
جکارتہ (ویب ڈیسک) انڈونیشیا کے علاقے ماروس میں دریافت ہونے والے ایک دیوہیکل ریٹیکیولیٹڈ پائتھن کو گینیز ورلڈ ریکارڈ نے دنیا کا سب سے لمبا جنگلی سانپ قرار دے دیا۔
گینیز ورلڈ ریکارڈ کے مطابق تفصیلی شواہد اور پیمائش کے بعد یہ تصدیق کی گئی کہ مادہ سانپ کی لمبائی 23 فٹ 8 انچ ہے، جو اب تک ریکارڈ کیے گئے تمام جنگلی سانپوں میں سب سے زیادہ ہے۔
یہ غیر معمولی سانپ اس وقت ماہرِ تحفظِ فطرت بودی پوروانتو، لائسنس یافتہ سانپ پکڑنے والے دیاز نوگراہا اور نیچرل ہسٹری فوٹوگرافر رادو فرینتیو کی نگرانی میں ہے، ماہرین کے مطابق سانپ کی صحت اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
دیاز نوگراہا اور رادو فرینتیو کا کہنا ہے کہ افواہوں پر مبنی اطلاعات موصول ہونے کے بعد وہ اس غیر معمولی حد تک طویل سانپ کی تلاش میں نکلے تھے، کامیاب دریافت کے بعد انہوں نے اس سانپ کو ’ایبو بیرن‘ یا ’دی بیرونیس‘ کا نام دیا۔
واضح رہے کہ عام طور پر ریٹیکیولیٹڈ پائتھن بالغ ہونے پر 9 فٹ 10 انچ سے لے کر 19 فٹ 2 انچ تک لمبا ہوتا ہے، تاہم ماروس میں دریافت ہونے والا یہ سانپ اپنی غیر معمولی جسامت کے باعث دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا
فوٹو: آن لائنلاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا، ڈی ايچ اے اور ہربنس پورہ انڈر پاس پانی سے بھر گئے، ٹریفک کے لیے بند کردیے گئے۔
تاج پورہ اور ایئرپورٹ کے قریب علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، گاڑیاں ڈوب گئیں، موٹرسائيکلیں بند ہوگئیں، فیروز پور روڈ پر موٹرسائیکل پھسل کر کھمبے سے جا ٹکرائی، جس کے نتیجے میں دو بھائی جاں بحق ہوگئے، چھت گرنے کے واقعات میں چار افراد زخمی ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث 99 فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
گوجرانوالا میں مسلسل تیسرے دن بھی بارش برسی، نکاسِ آب کے لیے لاہور سے مشینری طلب کرلی گئی، شکر گڑھ میں تیسرے روز بھی موسلادھار بارش ہوئی، نالہ بئیں اور بسنتر سے ملحقہ نشیبی دیہات میں پانی داخل ہوگیا۔
منڈی بہاء الدین میں بارش سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی دھان اور چارے کی فصلیں تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب دریائے چناب میں نچلے سے درمیانے درجے کا ریلا گزرنے کا خطرہ ہے، تریموں بیراج پر پانی کی سطح بلند ہونے لگی، سرگودھا میں طالب والا کے مقام پر اکتالیس دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔