امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور کی تصدیق کردی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمعہ کو ہونے والے مذاکرات کے نتائج مثبت رہے۔
صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران امریکا سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور آئندہ ہفتے مذاکرات کا اگلا دور ہوگا۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران اس بار پچھلے ڈیڑھ سال کے مقابلے میں عمل کے لیے زیادہ تیار ہے اور ان کا مقصد ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہونا ہے۔
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان یہ مذاکرات عُمان کے دارالحکومت مسقط میں جمعے کو ہوئے تھے۔ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم اس سے پہلے دونوں ممالک اپنے دارالحکومتوں میں داخلی مشاورت کریں گے۔
امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر روکے اور بیلسٹک میزائلوں کی پیداوار محدود کرے، تاکہ خطے میں امن اور سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایران کے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔