ایران جانتا ہے معاہدہ نہ کیا تو نتائج بہت سنگین ہونگے، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کر دی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اگلے ہفتے پھر شروع ہوں گے۔
تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عمان میں ایران کے ساتھ جوہری پروگرام پر ہونے والے مذاکرات کو “بہت اچھا” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی اور ایرانی وفود اگلے ہفتے ایک اور اجلاس کریں گے تاکہ مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکے۔
حالیہ مذاکرات مسقط، عمان میں عمان کے ثالثی کردار میں ہوئے، جس میں امریکی وفد اور ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے شرکت کی۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران بھی سمجھتا ہے کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں نتائج “بہت سنگین” ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایران نے بھی مذاکرات کو “اچھا آغاز” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مزید بات چیت جاری رکھنے پر متفق ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔