ٹرمپ کا اوباما خاندان کے خلاف نسل پرستانہ پوسٹ پر معافی سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق صدر باراک اوباما اور سابق خاتونِ اول مشیل اوباما کے خلاف نسل پرستانہ سوشل میڈیا پوسٹ پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا ہے، اگرچہ انہوں نے شدید عوامی اور سیاسی ردعمل کے بعد یہ پوسٹ حذف کر دی گئی۔
متنازع ویڈیو اور ردعملغیر ملکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ٹرمپ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر شیئر کی گئی ایک مختصر ویڈیو میں اوباما میاں بیوی کے چہروں کو جنگلی جانوروں (بندر نما تصاویر) پر فٹ کیا گیا تھا، جسے مختلف حلقوں نے کھلی نسل پرستی قرار دیا۔
یہ ویڈیو جمعرات کی رات شیئر کی گئی اور چند گھنٹوں بعد سخت تنقید کے باعث ہٹا دی گئی۔
ٹرمپ کا مؤقفجمعے کے روز صحافیوں سے گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے کوئی غلطی نہیں کی۔
’میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔‘
انہوں نے وضاحت دی کہ ویڈیو کا آغاز دیکھا اور اسے نامعلوم عملے کو پوسٹ کرنے کے لیے دے دیا۔
BREAKING: Trump just posted a video on Truth Social that includes a racist image of Barack and Michelle Obama as monkeys.
There’s no bottom pic.twitter.com/zPEGa94dYO
— Republicans against Trump (@RpsAgainstTrump) February 6, 2026
وائٹ ہاؤس کی وضاحتوائٹ ہاؤس کے مطابق یہ پوسٹ ایک عملے کے رکن کی جانب سے شیئر کی گئی تھی اور اعتراضات سامنے آنے پر فوری طور پر ہٹا دی گئی۔
ابتدائی طور پر پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے تنقید کو ’جعلی غصہ‘ قرار دیا، تاہم بعد ازاں وائٹ ہاؤس نے تسلیم کیا کہ ایسی پوسٹ نہیں ہونی چاہیے تھی۔
انتظامیہ یہ واضح نہ کر سکی کہ ٹرمپ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو کون کنٹرول کرتا ہے یا متنازع مواد کی منظوری کیسے دی جاتی ہے۔
سیاسی و سماجی حلقوں کا سخت ردعملری پبلکن سینیٹر ٹِم اسکاٹ، جو امریکی سینیٹ میں واحد سیاہ فام ری پبلکن ہیں، نے پوسٹ کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے یہ جعلی ہوگی۔
سینیٹر راجر وِکر نے پوسٹ کو ’اقابلِ قبول‘ قرار دیا اور ٹرمپ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔
کانگریشنل بلیک کاکس کی چیئر یوویٹ کلارک نے وائٹ ہاؤس کی وضاحت مسترد کرتے ہوئے کہا ’اگر وائٹ ہاؤس میں نسل پرستانہ ماحول نہ ہوتا تو ایسی چیزیں سامنے نہ آتیں۔‘
انسانی حقوق تنظیموں کی تنقیداین اے اے سی پی کے صدر ڈیرک جانسن نے ویڈیو کو ’قابلِ نفرت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ اس تنازع کے ذریعے معاشی مسائل اور جیفری ایپسٹین کیس سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں۔
یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں بھی اوباما خاندان کے خلاف ذاتی حملے کرتے رہے ہیں، جن میں یہ جھوٹا دعویٰ بھی شامل ہے کہ باراک اوباما امریکا میں پیدا نہیں ہوئے۔
یہ واقعہ بلیک ہسٹری منتھ کے دوران پیش آیا، حالانکہ چند دن قبل ہی ٹرمپ نے سیاہ فام امریکیوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے ایک اعلامیہ جاری کیا تھا۔
اوباما کے ترجمان کے مطابق سابق صدر نے اس معاملے پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سابق امریکی خاتونِ اول مشیل اوباما سابق امریکی صدر باراک اوباما
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سابق امریکی صدر باراک اوباما ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔