سعودی عرب، ترکیہ، ایران اور افغانستان نے اسلام آباد کے امام بارگاہ میں خود کش دھماکے کی شدید مذمت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت پاکستان اور لواحقین سے گہری تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق دارالحکومت کے امام بارگاہ میں ہونے والے خود کش حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد 35 سے زائد ہوگئی جب کہ 200 کے قریب زخمی ہیں۔

برادر مسلم ملک سعودی عرب نے اس سفاکانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عبادت گزاروں کو نشانہ بنانا، بے گناہ شہریوں کا خون بہانا کھلی دہشت گردی ہے۔

سعودی وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ شہدا کے اہلخانہ، حکومتِ پاکستان اور عوام سے دلی تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اسلام آباد میں نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والے دہشتگرد حملے کو شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایران ہر قسم کی دہشتگردی اور پرتشدد انتہا پسندی کی بلاامتیاز مخالفت کرتا ہے۔

بیان میں ایران نے شہدا کے لواحقین، پاکستانی عوام اور حکومت سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی اپیل بھی کی۔

ترک وزارتِ خارجہ نے بھی اس سفاکانہ واقعے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے دہشتگردی کی بدنما حرکت قرار دیتے ہوئے پاکستان کے ساتھ اپنے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

ترک وزارت خارجہ نے بھی اپنے بیان میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے ہمدردی اور زخمیوں کے لیے دعائے صحت کی ہے۔

افغانستان کی طالبان حکومت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے بھی اس دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ عبادت گزاروں کو نشانہ بنانا افسوسناک ہے۔

طالبان حکومت نے واقعے میں جاں بحق ہونے والے شہدا کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور زخمیوں کی صحتیابی کے لیے دعا کا اظہار کیا ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کا اظہار کیا اور زخمیوں کے لیے

پڑھیں:

بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی

گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی