سانحہ ترلائی، وزیراعلیٰ پنجاب نے تمام بسنت تقریبات منسوخ کردیں
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
لاہور(نیوزڈیسک)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کل کے لیے بسنت سے متعلق اپنی تمام سرکاری اور نجی مصروفیات منسوخ کر دی ہیں۔یہ فیصلہ اسلام آباد میں پیش آنے والے حالیہ سانحے کے پس منظر میں کیا گیا۔ اس سلسلے میں لبرٹی اسکوائر پرمنعقد ہونے والا میگا شوبھی منسوخ کردیا گیا ہے تاکہ شہداء کے اہل خانہ کے جذبات کا احترام کیا جا سکے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور پوری قوم خارجی دہشت گردوں اور ان کے ہمدردوں کے خلاف فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
سندھ حکومت کا کامن ویلتھ پارلیمنٹرینز کے ثقافتی میوزیکل سیگمنٹ کی منسوخی۔انہوں نے واضح کیا کہ قومی یکجہتی کے اس وقت میں ہرشہری کو متحد رہنا چاہیے اورکسی بھی طرح کی دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
مریم نواز نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سانحہ کے متاثرین کے ساتھ ہمدردی اورتعاون کا مظاہرہ کریں اورقومی یکجہتی کے پیغام کو مضبوط بنائیں۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت اور سیکیورٹی ادارے عوام کی حفاظت اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔