سانحہ ترلائی، وزیراعلیٰ پنجاب نے تمام بسنت تقریبات منسوخ کردیں
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
لاہور(نیوزڈیسک)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کل کے لیے بسنت سے متعلق اپنی تمام سرکاری اور نجی مصروفیات منسوخ کر دی ہیں۔یہ فیصلہ اسلام آباد میں پیش آنے والے حالیہ سانحے کے پس منظر میں کیا گیا۔ اس سلسلے میں لبرٹی اسکوائر پرمنعقد ہونے والا میگا شوبھی منسوخ کردیا گیا ہے تاکہ شہداء کے اہل خانہ کے جذبات کا احترام کیا جا سکے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور پوری قوم خارجی دہشت گردوں اور ان کے ہمدردوں کے خلاف فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
سندھ حکومت کا کامن ویلتھ پارلیمنٹرینز کے ثقافتی میوزیکل سیگمنٹ کی منسوخی۔انہوں نے واضح کیا کہ قومی یکجہتی کے اس وقت میں ہرشہری کو متحد رہنا چاہیے اورکسی بھی طرح کی دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
مریم نواز نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سانحہ کے متاثرین کے ساتھ ہمدردی اورتعاون کا مظاہرہ کریں اورقومی یکجہتی کے پیغام کو مضبوط بنائیں۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت اور سیکیورٹی ادارے عوام کی حفاظت اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔