امریکی شہریوں کو فوری ایران چھوڑنے کی ہدایت: ورچول ایمبیسی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
امریکی ورچوئل ایمبیسی نے ایران میں موجود امریکی شہریوں کو فوری ملک چھوڑنے کی ہدایت کر دی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران میں امریکی ورچوئل ایمبیسی نے ایران میں رہنے والے امریکی شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی شہری امریکی حکومت کی مدد پر انحصار کیے بغیر ایران سے روانگی کا منصوبہ بنائیں کیونکہ پروازوں کی منسوخی اور تعطل کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔
ورچوئل ایمبیسی کے بیان میں ہدایت کی گئی کہ اگر ایران چھوڑنا ممکن نہ ہو تو امریکی شہری اپنے گھروں یا کسی محفوظ عمارت میں رہیں اور خوراک، پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کا مناسب ذخیرہ رکھیں، محفوظ ہو تو امریکی شہری زمینی راستے سے آرمینیا یا ترکیے جانے پر غور کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک