مکہ مکرمہ میں شہری ترقی کے حالیہ اقدامات نے معیار زندگی مزید بہتر بنادیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
مکہ مکرمہ میں شہری ترقی کے نئے اقدامات جاری ہیں جن میں ثقافتی اور تفریحی تقریبات کو شامل کر کے مقامی شہریوں اور زائرین کی معیار زندگی میں بہتری لائی جا رہی ہے۔ اس ضمن میں مکہ ونٹر سیزن نے خاص اہمیت حاصل کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب، 140 نایاب جانور قدرتی ماحول میں چھوڑ دیے گئے
ایس پی اے کے مطابق اس ایونٹ میں تقریباً 4 لاکھ وزیٹرز شریک ہوئے جن میں سے 60 فیصد سے زائد مقامی شہری تھے۔
ایونٹ نے عوامی مقامات کو جان بخشی، تفریحی مقامات کی وزٹ میں 35 فیصد اضافہ کیا اور 1,200 سے زائد عارضی ملازمتیں فراہم کیں۔
اسی دوران حرا کلچرل ڈسٹرکٹ نے ثقافتی ورثے اور تخلیقی معیشت کے درمیان رابطہ قائم کیا۔ اس پروگرام میں 100 سے زائد دستکار شامل تھے جنہوں نے تقریباً 3 ملین سعودی ریال کی فروخت کی اور 1,30,000 وزیٹرز کو لائیو ورکشاپس میں متوجہ کیا۔
مزید پڑھیے: سعودی عرب کی وادی الاحسبہ قدرتی مناظر کی وجہ سے سیاحوں میں مقبول
یہ اقدامات اور ساتھ ہی خصوصی میوزیمز اور تاریخی مقامات کی بحالی، سالانہ 1.
مزید پڑھیں: سعودی عرب میں ورلڈ کرکٹ فیسٹیول 2026 کا شاندار آغاز، پاکستانی ٹیم نے دھاک بٹھا دی
مکہ مکرمہ اپنے مقدس مقام کی روحانیت اور جدید شہری ترقی کے توازن کے ذریعے سعودی وژن 2030 اور کوالٹی آف لائف پروگرام کے اہداف کو بھی سپورٹ کر رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مکہ مکرمہ مکہ مکرمہ میں شہری ترقی کے اقدامات مکہ مکرمہ میں معیار زندگی مزید بلند
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: مکہ مکرمہ مکہ مکرمہ میں شہری ترقی کے اقدامات مکہ مکرمہ میں معیار زندگی مزید بلند مکہ مکرمہ میں شہری ترقی کے
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔