data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260207-01-18
مسقط /واشنگٹن /تہران /استنبول /دوحا / ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران اور امریکا کے درمیان عمان میں جوہری بالواسطہ مذاکرات کا جمعے کو ہونے والا دور مکمل ہوگیایہ گھنٹوں تک جاری رہے۔ مذاکرات میں ایرانی وفد کی نمائندگی ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کی جبکہ امریکا کی نمائندگی امریکی صدر ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر نے کی۔ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ عمان میں امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات کا تازہ ترین دور اختتام پذیر ہو گیا ہے، جس کے بعد دونوں وفود اپنے اپنے ممالک واپس روانہ ہوں گے۔ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق عمان میں ہونے والے ایران امریکا مذاکرات فی الحال ختم ہو گئے۔ جمعے کو مذاکرات کے 2 دور ہوئے۔ مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ کسی بھی مذاکرات کی کامیابی کے لیے دھمکیوں یا دباؤ سے اجتناب سب سے ضروری امر ہے‘ ہم نے مذاکرات میں اپنا یہ نقطہ واضح طور پر اٹھایا اور توقع رکھتے ہیں کہ اس پر عمل کیا جائے تاکہ مذاکرات جاری رہ سکیں‘ مذاکرات مثبت ماحول میں ہوئے اور دونوں طرف کے خیالات اور خدشات کا تبادلہ کیا گیا۔ عباس عراقچی نے یقین دلایا کہ اگر ہم اسی طرح مثبت راستے پر چلیں تو جوہری مذاکرات کے حوالے سے ایک مثبت فریم ورک تک پہنچنا ممکن ہے‘ آئندہ مذاکرات کی تاریخ عمان میں اپنے ہم منصب سے مشاورت کے بعد طے کی جائے گی‘ امریکا اور اسرائیل کے ایران کے 3 جوہری مقامات پر حملے کے بعد پیدا شدہ اعتماد کی کمی کو دور کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔رپورٹ کے مطابق جمعے کی صبح شروع ہونے والے اس اجلاس کے دوران ایران اور امریکا کے مذاکراتی وفود نے اپنے اپنے مؤقف، تحفظات اور طریقہ کار عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کے ذریعے ایک دوسرے تک پہنچائے۔ امریکی اخبار “وال اسٹریٹ جرنل” نے ایک امریکی اہل کار کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس وفد میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکوم) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر بھی شامل کیا گیا۔ روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے ایک ایرانی اہل کار نے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکوم) کے کمانڈر کی موجودگی کو جوہری مذاکرات کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔امریکا تہران سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی روکے، اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کو محدود کرے اور اپنے علاقائی حلیفوں کی حمایت ختم کرے، جبکہ ایران نے صرف اپنے جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔اسی تناظر میں تین ایرانی حکام نے “نیویارک ٹائمز” کو بتایا ہے کہ تہران امریکی پابندیوں کے خاتمے کے بدلے اپنے جوہری پروگرام کو طویل مدت کے لیے معطل کرنے کی پیشکش کر سکتا ہے۔دوسری جانب عمانی وزیر خارجہ نے سفارتی کوششوں میں ایران کی نیک نیتی اور سنجیدگی کی تعریف کی اور تہران و واشنگٹن کے درمیان پائیدار مفاہمت کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا۔ ادھر ایرانی پاسداران انقلاب کے سیاسی نائب کمانڈر بریگیڈیئر جنرل ید اللہ جوانی نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات صرف جوہری معاملے تک محدود رہیں گے اور ایران کی دفاعی و میزائل صلاحیت پر مذاکرات نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ایران جنگ نہیں چاہتا لیکن کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دے گا۔سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے جمعے کے روز اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی کامیابی خطے کو مزید محفوظ بنا دے گی۔ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ایران کے حوالے سے جاری بات چیت کے لیے ریاض کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہر کوئی ان مذاکرات کی کامیابی کا خواہش مند ہے۔ ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ مذاکرات کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ ایران کے ساتھ ڈیل ہو سکتی ہے یا نہیں۔ایک بیان میں ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہا کہ صدر ٹرمپ عمان میں شیڈول امریکا اور ایران کے مابین مذاکرات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سفارتکاری ناکام ہوئی تو صدر کے پاس دیگر آپشنز بھی ہیں، امریکی صدر دنیا کی طاقتور ترین فوج کے کمانڈر ان چیف ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جوہری تصادم کو روکا ہے۔ٹروتھ سوشل جاری بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا دنیا کا سب سے طاقتور ملک ہے، پہلی مدت میں امریکی فوج کو مکمل طور پر ازسرِ نو مضبوط کیا، امریکا نے نئے اور جدید جوہری ہتھیار تیار کیے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران مذاکرات اس لیے کر رہا ہے کہ وہ حملے سے بچ سکے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران نہیں چاہتا کہ امریکا اس پر حملہ آور ہو، فرقہ ورانہ تشدد اور مذہبی ظلم کے خلاف عالمی اتحاد کی ضرورت ہے۔امریکی ورچوئل ایمبیسی نے ایران میں موجود امریکی شہریوں کو فوری ملک چھوڑنے کی ہدایت کر دی۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران میں امریکی ورچوئل ایمبیسی نے ایران میں رہنے والے امریکی شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی شہری امریکی حکومت کی مدد پر انحصار کیے بغیر ایران سے روانگی کا منصوبہ بنائیں کیونکہ پروازوں کی منسوخی اور تعطلی کسی بھی وقت ہو سکتی ہے۔ ورچوئل ایمبیسی کے بیان میں ہدایت کی گئی کہ اگر ایران چھوڑنا ممکن نہ ہو تو امریکی شہری اپنے گھروں یا کسی محفوظ عمارت میں رہیں اور خوراک، پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیا کا مناسب ذخیرہ رکھیں، محفوظ ہو تو امریکی شہری زمینی راستے سے آرمینیا یا ترکیے جانے پر غور کریں۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ جنگ روکنے کی کوشش کررہے ہیں ترکیہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ تناؤ قابو سے باہر ہوا تو پورا مشرقِ وسطیٰ ایک نئے تنازعے کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق صدر اردوان نے مصر کے دورے سے واپسی پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اور ایرانی قیادت کی سطح پر بات چیت انتہائی مفید ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عمان میں نچلی سطح کے جوہری مذاکرات متوقع ہیں۔اردوان نے کہا کہ ترکیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ترکیہ نے گزشتہ برسوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے ہیں اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنی سفارتی سرگرمیاں بڑھائی ہیں۔ جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے ایرانی قیادت سے مذاکرات اور جوہری پروگرام ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ فریڈرک مرز نے کہا کہ ایرانی حملے ماضی میں شدید نقصان اور عالمی مذمت کا سبب بنے، خطے میں استحکام کے لیے قطر اور دیگر ممالک کے ساتھ تعاون ضروری ہے۔ جرمن چانسلر کی امیر قطر تمیم بن حمد الثانی سے بھی ملاقات ہوئی، مضبوط تعلقات کا عندیہ دیا۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکا اور ایران کے جوہری مذاکرات مذاکرات کے میں امریکی مذاکرات کی کے درمیان کہ امریکا کرتے ہوئے کر رہا ہے نے کہا کہ انہوں نے کہ ایران کے مطابق نے ایران کے ساتھ کے لیے کے بعد

پڑھیں:

بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا

اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان