بسنت کی خوشیوں پر تنقید کا طوفان، ندا یاسر سوشل میڈیا کی زد میں
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
پاکستان کی معروف مارننگ شو میزبان ندا یاسر کو اپنے پروگرام میں بسنت کی تقریب منانے پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ندا یاسر، جو گزشتہ تقریباً 18 برس سے مارننگ پاکستان کی میزبانی کر رہی ہیں اور انسٹاگرام پر 24 لاکھ سے زائد فالوورز رکھتی ہیں، پہلے ہی مختلف متنازع بیانات کے باعث سوشل میڈیا پر زیرِ بحث رہتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں انہوں نے اپنے شو میں بسنت اسپیشل ایپیسوڈ پیش کیا، جس میں نگاہ جی، سعدیہ امام، کرن خان، گلوکار جنید سمیت دیگر مہمان شریک ہوئے اور بسنت کے تہوار پر گفتگو کے ساتھ رقص بھی کیا گیا۔ لاہور میں جاری بسنت تقریبات کے تناظر میں ندا یاسر نے گانے ’’شکر ونداں رہ‘‘ پر ڈانس اسٹیپس سیکھے اور دیگر فنکاروں کے ساتھ خوشی منائی، تاہم ان کا یہ جوش ناظرین کو پسند نہ آیا۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جمعے کے دن رقص مناسب نہیں تھا، جبکہ کئی افراد نے ملکی حالات، بلوچستان کی صورتحال، تیراہ کے متاثرین، فلسطین اور حالیہ بم دھماکوں کا حوالہ دیتے ہوئے ایسے جشن کو غیر حساس قرار دیا۔ بعض صارفین نے پروگرام کو شرمناک قرار دیا اور سوال اٹھایا کہ کیا قومی حالات کے پیشِ نظر کسی مثبت اور تعمیری پیغام پر توجہ نہیں دی جا سکتی۔ یوں بسنت کی خوشیوں کا یہ شو ندا یاسر کے لیے ایک نئی تنقیدی بحث کا سبب بن گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ندا یاسر
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔