ایف آئی اے امیگریشن نے کراچی ائرپورٹ پر بڑی کارروائی کرتے کی جس کے نتیجے میں انسانی اسمگلنگ اور جنسی استحصال میں ملوث منظم نیٹ ورک بے نقاب ہوگیا۔

ترجمان ایف آئی اے نے کہا کہ ایف آئی اے امیگریشن کراچی نے متحدہ عرب امارات جانے والی 2 خواتین سمیت 3 مسافروں کو روک لیا۔ مسافروں میں سمیرا، نوشین اسحاق اور جمشید اقبال شامل ہیں۔ مسافروں کی نشاندہی پر محمد عاصم اور نعمان نامی سہولتکاروں کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔

خاتون مسافر سمیرا وزٹ ویزے کی آڑ میں مساج سینٹرز اور جنسی استحصال میں ملوث گروہ کے لیے ملازمت کرنے جا رہی تھی۔

خاتون مسافر کو شمیلا نامی ملزمہ نے فیس بک اور واٹس ایپ کے ذریعے بھرتی کیا اور ماہانہ 1.

5 لاکھ روپے تنخواہ کا وعدہ کیا۔ خاتون کو یو اے ای بھجوانے میں شمیلا کے دیگر ساتھی نوشین اشفاق اور اس کے شوہر جمشید اقبال شامل ہیں۔ نوشین اقبال اور جمشید اقبال اس سے قبل بھی متعدد خواتین کو یو اے ای بھجوانے میں سہولتکاری کر چکے ہیں۔

شمیلا کے کراچی کے علاقے اعظم ٹاؤن میں واقع فلیٹ سے متعدد شواہد اور موبائل فون برآمد کیے گئے جن میں واٹس ایپ چیٹس، تصاویر اور مالی لین دین کے ریکارڈ موجود ہیں۔

مسافروں کو محمد عاصم اور نعمان نامی ملزمان نے سفری انتظامات اور ٹرانسپورٹ میں سہولتکاری فراہم کی۔ ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایف آئی اے

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل