دہشتگردی میں ملوث کرداروں کو انجام تک پہنچایا جائے، علامہ آصف حسینی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
اپنے بیان میں علامہ آصف حسینی نے کہا کہ اب محض پیغامات اور رسمی مذمتیں ناکافی ہیں۔ ذمہ داران دہشتگردی کے اس اندوہناک واقعے میں ملوث تمام کرداروں کو عبرتناک انجام تک پہنچائیں۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں قائم قومی مرکز کے بانی علامہ محمد آصف حسینی نے اسلام آباد کی خدیجۃ الکبریٰ مسجد میں پیش آنے والے لرزہ خیز اور انسانیت سوز خودکش دھماکے کی شدید ترین، سخت ترین اور دوٹوک الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے اپنے جاری بیان میں کہا کہ اللہ کے گھر میں، حالت عبادت میں موجود سینکڑوں مومنین کو شہید اور زخمی کرنا ایک ناقابل معافی جرم، کھلی دہشتگردی اور صریح درندگی ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف معصوم انسانی جانوں پر حملہ ہے بلکہ یہ اسلام، پاکستان اور معاشرتی امن کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ مسجد جیسے مقدس مقام کو خون میں نہلانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ دہشتگرد عناصر کسی دین، مسلک یا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں رکھتے بلکہ یہ محض وحشی قاتل اور بیرونی و اندرونی سازشوں کے آلۂ کار ہیں۔
علامہ محمد آصف حسینی کا کہنا ہے کہ اب محض بیانات، تعزیتی پیغامات اور رسمی مذمتیں ناکافی ہیں۔ ملکی سلامتی کے ذمہ دار اداروں، حکومتِ وقت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دہشتگردی کے اس اندوہناک واقعے میں ملوث تمام کرداروں، چاہے وہ منصوبہ ساز ہوں، سہولت کار ہوں یا خاموش سرپرست، کو بے نقاب کرکے عبرت ناک انجام تک پہنچائیں۔ اگر مساجد، عبادت گاہیں اور نمازی محفوظ نہیں تو یہ ریاستی ناکامی کے مترادف ہے۔ قوم یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہے کہ آخر کب تک بے گناہ مومنین کا خون یوں ارزاں بہتا رہے گا؟ کب تک دہشتگرد دندناتے پھریں گے اور شہداء کے لواحقین صرف صبر کی تلقین سنتے رہیں گے؟
انہوں نے کہا کہ ہم اس المناک سانحے میں شہید ہونے والے تمام مومنین کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کرتے ہیں، مگر اس کے ساتھ واضح مطالبہ کرتے ہیں کہ دہشتگردی کے خلاف حقیقی، غیر جانبدار اور بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور قوم کو محض وعدوں کے بجائے عملی نتائج دکھائے جائیں۔ اللہ تعالیٰ شہداء کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، زخمیوں کو شفائے کاملہ دے اور پاکستان کو ہر قسم کی دہشتگردی، فتنہ، تکفیریت اور خونریزی سے محفوظ رکھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ