اسلام آباد دھماکا؛ مختلف ممالک کی مذمت، دہشتگردی کے خاتمے کیلیے پاکستان کیساتھ کھڑے رہنے کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
دنیا بھر کے مختلف ممالک نے اسلام آباد میں ہونے والے خودکش دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے خودکش دھماکے کی سخت مذمت کرتے ہوئے شہید اور زخمی افراد کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی اور کہا کہ امریکا امن و سلامتی کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
برطانوی وزیرِ خارجہ نے اسلام آباد میں ہونے والے خودکش حملے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
سعودی عرب نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ ترکیہ کی جانب سے جاری بیان میں خودکش دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے شہدا اور زخمیوں کے اہلِ خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔
مزید پڑھیںاسلام آباد؛ امام بارگاہ خودکش بمبار کی شناخت ہوچکی ہے، حکومتی ذرائع
اسلام آباد امام بارگاہ دھماکے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی
آسٹریلوی ہائی کمشنر نے کہا کہ خودکش دھماکے پر شدید صدمہ اور افسوس ہوا ہے اور اس مشکل گھڑی میں آسٹریلیا پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔ جرمن سفیر نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جبکہ روسی سفارت خانے نے خودکش حملے کو سفاکیت قرار دیا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے شہریوں کو نشانہ بنانے کے عمل کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس حملے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ اور مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں جمعہ کی نماز کے دوران خودکش دھماکے میں 32 نمازی شہید اور 162 زخمی ہوگئے ہیں، جن میں سے 29 کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مذمت کرتے ہوئے خودکش دھماکے کا اظہار کیا اسلام آباد دھماکے کی
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔