اسلام آباد دھماکا: پشاور میں خودکش حملہ آور کے گھر پر چھاپا، 2 بھائی، خاتون گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
فوٹو: این این آئی
اسلام آباد میں خود کش حملہ کرنے والے کے گھر پر پولیس نے چھاپا مارا ہے، پشاور میں مارے جانے والے چھاپے کے دوران خودکش حملہ آور کے 2 بھائی اور ایک خاتون کو گرفتار کرلیا گیا۔
تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ خودکش بمبار کا شناختی کارڈ دھماکے والی جگہ سے ملا، حملہ آور کی شناخت شناختی کارڈ پر درج نام یاسر سے ہوئی، خودکش بمبار گزشتہ پانچ ماہ افغانستان میں مقیم رہا۔
افغانستان میں اسلحہ چلانے اور خودکش حملے کی تربیت حاصل کی تھی، پشاور اور نوشہرہ میں خودکش حملہ آور کے نیٹ ورک اور سہولت کاروں کی تلاش شروع کردی گئی۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ خود کش بمبار نے افغانستان سے دہشتگرد کارروائیوں کی تربیت حاصل کی، خودکش بمبار متعدد بار افغانستان کا سفر کر چکا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں۔
خیال رہے کہ اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ و مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں خودکش دھماکے سے 32 افراد شہید اور 150 سے زائد زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق خودکش دھماکا نمازِ جمعہ کے دوران ہوا۔
پمز ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپتال میں 105 زخمی اور 28 میتیں لائی گئیں، 27 افراد کی میتیں ورثاء کے حوالے کر دی گئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کا کہنا ہے کہ
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔