بلوچستان کے وزراء کی مسجد خدیجہ الکبریٰ میں دھماکے کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
اپنے مختلف بیانات میں صوبائی وزراء علی مدد جتک، شعیب نوشیروانی، بخت محمد کاکڑ اور مشیر مینا مجید نے اسلام آباد کی مسجد خدیجہ الکبریٰ میں دہشتگردی کے واقعہ کی مذمت کی۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے صوبائی وزیر داخلہ علی مدد جتک، وزیر خزانہ شعیب نوشیروانی، وزیر صحت بخت محمد کاکڑ اور صوبائی مشیر کھیل مینا مجید بلوچ نے اسلام آباد میں مسجد و امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ میں دہشتگردی کے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ اپنے جاری بیان میں وزیر داخلہ علی مدد جتک نے کہا کہ دہشتگردی ملک و قوم کے خلاف ایک سنگین سازش ہے۔ پوری قوم دہشتگردی کے خلاف متحد ہے اور ملک کے امن کو خراب کرنے کی ہر سازش ناکام بنائی جائے گی۔
وزیر خزانہ شعیب نوشیروانی نے کہا کہ نماز جمعہ کے دوران معصوم نمازیوں کو نشانہ بنانا بدترین دہشت گردی اور انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے۔ یہ بزدلانہ کارروائیاں قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ انکا کہنا تھا کہ دہشت گرد عناصر ملک کے امن و استحکام کو سبوتاژ کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں، مگر پوری قوم متحد ہے اور قومی اتحاد و اتفاق کے ذریعے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کی ہر شکل قابل مذمت ہے اور ریاست ایسے عناصر کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹے گی۔
وزیر سحت بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ بے امنی کے پیروکار پاکستان میں افراتفری اور خوف و ہراس پھیلانا چاہتے ہیں، تاہم قوم ایسے مذموم عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ دکھ کی اس گھڑی میں وہ غمزدہ خاندانوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں اور ان کے صبر و استقامت کے لیے دعاگو ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ دہشتگردی کے اس واقعے میں زخمی ہونے والوں کو جلد صحتِ کاملہ عطا فرمائے اور شہداء کے درجات بلند کرے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشتگردی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے حکومت اور سکیورٹی ادارے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔
صوبائی مشیر مینا مجید بلوچ نے کہا کہ نماز جمعہ اور عبادت کے دوران معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف بدترین جرم ہے۔ ایسے عناصر کا کسی مذہب، مسلک یا قوم سے کوئی تعلق نہیں، یہ محض دہشت گرد ہیں اور ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جانا چاہئے۔ یہ دہشت گردانہ کارروائی نہایت افسوسناک اور بزدلانہ فعل ہے۔ معصوم جانوں سے کھیلنے والے ملک دشمن عناصر کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں اور ان کے خلاف آئین و قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔ تمام حکومتی ذمہ داران نے شہداء کے بلند درجات، زخمیوں کی جلد صحتیابی اور سوگوار خاندانوں کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: دہشتگردی کے نے کہا کہ کے خلاف کہ دہشت
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔