سانحہ جامع مسجد خدیجۃ الکبریٰؑ کیخلاف کراچی میں شاہراہ پاکستان پر احتجاجی ریلی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ دارالحکومت اسلام آباد میں شیعہ جامع مسجد خدیجۃ الکبریٰؑ پر خودکش حملہ حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اور ان کی ناکامی ہے، اس واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد کی شیعہ جامع مسجد خدیجۃ الکبریٰؑ میں نماز جمعہ کے اجتماع پر خودکش حملے کیخلاف ملت جعفریہ کی تنظیمات نے کراچی میں بارگاہ شہدائے کربلا (ع) انچولی سوسائٹی تا شاہراہ پاکستان احتجاجی ریلی نکالی۔ ریلی میں خواتین بچوں سمیت کثیر تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔ ریلی میں شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی ایڈیشنل سیکریٹری جنرل علامہ سید ناظر عباس تقوی، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما مولانا سید باقر عباس زیدی، ایس یو سی سندھ کے صدر علامہ سید اسد اقبال زیدی، علامہ حسن رضا غدیری، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کراچی ریجن کے سیکریٹری جنرل حسن رضوی و دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ ہم ملت جعفریہ پاکستان کو دہشتگردی کا نشانہ بنا کر خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا، ہم شہید پرور قوم ہیں، ہماری شہادت ہی ہماری حیات ہے۔
مقررین نے کہا کہ دارالحکومت اسلام آباد میں شیعہ جامع مسجد خدیجۃ الکبریٰؑ پر خودکش حملہ حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اور ان کی ناکامی ہے، اس واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔ مقررین نے کہا کہ ملت جعفریہ کو امریکا اسرائیل کی مخالفت اور فلسطین و ایران کی حمایت کے جرم میں دہشتگردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، لیکن دہشتگرد اور انکے سرپرست جان لیں ملت جعفریہ پاکستان فلسطین و ایران کے ساتھ تھے، ہیں اور ہمیشہ کھڑے رہیں گے۔ مقررین نے کہا کہ پاکستان میں سنی شیعہ مسلمان متحد ہیں، ملک ممیں دہشتگردی کے واقعات فرقہ واریت کو پروان چڑھانے کی سازش ہیں، لیکن ملت جعفریہ پاکستان ہمیشہ کی طرح فرقہ واریت کی سازشوں کو ناکام بناتی رہے گی۔
مقررین نے کہا کہ ملک بھر میں کالعدم ہونے کے باوجود تکفیری دہشتگرد تنظیموں کا نیٹ ورک موجود ہے، دارالحکومت اسلام آباد سمیت پورے ملک میں کالعدم دہشتگرد تنظیموں کو کھلے عام جلسے، جلوس و اجتماعات کرنے کی اجازت ہے، بتایا جایا کہ کس کی سرپستی و سہولتکاری میں کالعدم تکفیری دہشتگرد تنظیمیں کھلے عالم فعالیت انجام دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک کالعدم تکفیری دہشتگرد تنظیموں اور انکے سہولت کاروں کا مکمل خاتمہ نہیں کیا جاتا، اس وقت تک ملک میں قیام امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ شیعہ جامع مسجد پر خودکش حملے میں ملوث دہشتگرد عناصر اور انکے سہولتکاروں کو فوری گرفتار اور انہیں بے نقاب کرکے پوری قوم کو آگاہ کیا جائے۔
مقررین نے مطالبہ کیا کہ مسلسل دہشتگردانہ واقعات سیکیورٹی ناکامیاں اور عوام کی جان و مال کے تحفظ پر سوالیہ نشان ہیں، وفاقی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مساجد، امام بارگاہوں سمیت تمام عبادتگاہوں کی سیکیورٹی مزید سخت کریں، تاکہ ایسے واقعات کا تدارک ممکن ہو سکے، زخمیوں کی مکمل صحتیابی تک علاج معالجہ یقینی بنایا جائے۔ آخر میں مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ قوم دہشتگردی کے خلاف متحد ہے اور کسی بھی صورت امن دشمن قوتوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ احتجاجی ریلی کا اختتام دعائے سلامتی امام زمانہ (عج) سے کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: دارالحکومت اسلام ا باد جامع مسجد خدیجۃ الکبری مقررین نے کہا کہ احتجاجی ریلی ملت جعفریہ
پڑھیں:
بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
اسلام ٹائمز: بحرین اور متحدہ عرب امارات نے غزہ جنگ میں غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے فلسطینیوں کی وحشیانہ نسل کشی اور سنگین جنگی جرائم کے ارتکاب کے باوجود اب تک اس سے تجارتی اور سیکورٹی تعاون بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ اس سب سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحرینی اور اماراتی حکمرانوں کو مسلمانوں کی کوئی فکر نہیں ہے اور وہ طاقت کے نشے میں بدمست ہو کر اسلام اور امت مسلمہ کے دیرینہ دشمن سے اتحاد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آل خلیفہ اور آل نہیان رژیموں نے صیہونزم اور صیہونی رژیم سے متحد ہو کر امت مسلمہ کے خلاف نیا محاذ کھول رکھا ہے۔ ایک طرف مقبوضہ فلسطین میں کروڑوں فلسطینی ظالمانہ محاصرے کا شکار ہیں اور اسرائیل مسلسل غیر قانونی طور پر یہودی بستیوں میں توسیع کے ساتھ ساتھ اسلامی ممالک پر وحشیانہ حملے جاری رکھے ہوا ہے جبکہ دوسری طرف بحرین اور امارات کے حکمران اس سے دوستی کی پینگیں بڑھا رہے ہیں۔ تحریر: علی احمدی
خلیج فارس کے جنوبی ساحل پر واقع عرب ریاستوں خاص طور پر بحرین اور متحدہ عرب امارات میں اہل تشیع شہریوں کے ساتھ عرب حکمرانوں کا امتیازی سلوک اپنے عروج پر جا پہنچا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے اپریل کے وسط میں اچانک ہی 15 ہزار اہل تشیع پاکستانی مہاجرین کو ملک بدر کر دیا جو وہاں مختلف شعبوں میں کام کر رہے تھے۔ ان میں سے کچھ ایسے بھی تھے جو گذشتہ چند دہائیوں سے وہاں مقیم تھے اور محنت مزدوری میں مصروف تھے۔ انہیں بغیر کسی جرم کے گرفتار کیا گیا اور ان کے بینک اکاونٹس بند کر دینے کے بعد خالی ہاتھ وطن واپس بھیج دیا گیا۔ انسانی حقوق کے اداروں اور سرگرم اراکین نے اس اقدام کو فرقہ وارانہ بنیاد پر امتیازی سلوک کا واضح مصداق قرار دیا ہے اور اسے خطے میں جاری جنگ اور پاکستان کی جانب سے اس جنگ کے خاتمے کے لیے فعال کوششوں اور کردار سے مربوط جانا ہے۔
دوسری طرف بحرین میں بھی اگرچہ مقامی آبادی کی اکثریت اہل تشیع پر مشتمل ہے لیکن حکمفرما آل خلیفہ خاندان شیعہ شہریوں سے بدترین امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہے۔ آل خلیفہ حکمرانوں نے سرکاری سطح پر اہل تشیع کو تمام اہم اور اعلی سطحی حکومتی مناصب سے محروم رکھنے کے ساتھ ساتھ انہیں ان کے بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم رکھا ہوا ہے۔ شیعہ شہری کسی بھی اہم حکومتی، سیکورٹی یا اقتصادی عہدے پر فائز نہیں ہو سکتے اور یوں ان سے دوسرے درجے کے شہری جیسا سلوک جاری ہے۔ شیعہ شہریوں کو مذہبی رسومات جیسے عزاداری وغیرہ کی ادائیگی سے روکا جاتا ہے، امام بارگاہیں اور شیعہ مساجد بند کر دی گئی ہیں جبکہ بڑی تعداد میں شیعہ بحرینی شہریوں سے ایران کی حمایت جیسے بے بنیاد الزام اور بہانے کے ذریعے شہریت واپس لے لی گئی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ خطے کے استحکام کے لیے بھی خطرہ ہے۔
ظالم و جابر حکومت
حالیہ جنگ میں امریکی صیہونی محاذ کی اسلامی جمہوریہ ایران کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کے بعد بحرین پر حکمفرما آل خلیفہ رژیم نے صیہونی مہرہ ہونے اور غاصب صیہونی رژیم سے وفاداری کا پورا ثبوت دیتے ہوئے مئی کے آخر سے شیعہ شہریوں کے خلاف ظالمانہ اقدامات کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ آل خلیفہ رژیم کے ہرکارے رات کے وقت شیعہ علماء کے گھرون پر وحشیانہ انداز میں کریک ڈاون کر رہے ہیں اور اب تک دسیوں شیعہ علماء کو گرفتار کر لیا ہے جن میں دو معروف عالم دین شیخ محمد سنقور اور شیخ علی الصدیقی بھی شامل ہیں۔ بحرینی حکام نے ان افراد پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی سے رابطے میں تھے۔ اسی طرح آل خلیفہ رژیم نے دسیوں شیعہ بحرینی شہریوں کی شہریت بھی ختم کر دی ہے۔ اہل تشیع کے مذہبی مقامات پر شدید قدغن لگا دیا گیا ہے اور 400 سے زائد شہریوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔
ان ظالمانہ اور آمرانہ اقدامات کے جواب میں بحرین کے شیعہ علماء نے بیانیہ جاری کیا جس میں ان اقدامات کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ شیخ عبداللہ الدقاق اور دیگر اسیر یا جلاوطن شیعہ علماء نے آل خلیفہ رژیم کے ظالمانہ اقدامات کو بحرین کے شیعہ اور اسلامی تشخص کے وجود کے لیے خطرہ قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری اور اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس ظلم و ستم پر خاموش تماشائی نہ بنیں۔ اسی طرح بحرین کے مختلف حصوں میں کفن پوش مظاہرے بھی منعقد ہوئے ہیں اور شیعہ برادری نے ان اقدامات کو آل خلیفہ کی فرقہ وارانہ اور امتیازی سیاست کا حصہ قرار دیا ہے۔ علماء نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایسے ظالمانہ اقدامات ہر گز انصاف کے لیے اٹھنے والی آواز خاموش نہیں کر پائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کی بنیادی وجہ آل خلیفہ رژیم کے دل میں شیعیان اہلبیت علیہم السلام سے پایا جانا والا خوف اور وحشت ہے۔
اسلام سے غداری
بحرین اور متحدہ عرب امارات پر حکمفرما عرب شہزادوں نے 2020ء میں ابراہیم معاہدے میں شامل ہو کر اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم سے سفارتی تعلقات بحال کیے تھے اور یوں انہوں نے اسلام سے غداری کرتے ہوئے امت مسلمہ کی پیٹھ میں خنجر گھونپ دیا تھا۔ ان کا یہ اقدام ایسے حالات میں انجام پایا تھا جب غاصب صیہونی رژیم نے مقبوضہ فلسطین، جنوبی لبنان اور گولان ہائٹس پر غاصبانہ قبضہ جما رکھا تھا۔ یہ اقدام درحقیقت اپنے اقتصادی مفادات کو امت مسلمہ کے وقار اور خودمختاری پر ترجیح دینے کا واضح مصداق ہے۔ بحرین اور متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں نے اسرائیل سے اتحاد تشکیل دے کر امت مسلمہ کی وحدت کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس معاہدے کے بعد اگرچہ صیہونی حکمرانوں نے غزہ میں لاکھوں بیگناہ فلسطینیوں کا قتل عام کیا لیکن بحرین اور امارات اب بھی اسرائیل کے اتحادی بنے بیٹھے ہیں۔
بحرین اور متحدہ عرب امارات نے غزہ جنگ میں غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے فلسطینیوں کی وحشیانہ نسل کشی اور سنگین جنگی جرائم کے ارتکاب کے باوجود اب تک اس سے تجارتی اور سیکورٹی تعاون بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ اس سب سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحرینی اور اماراتی حکمرانوں کو مسلمانوں کی کوئی فکر نہیں ہے اور وہ طاقت کے نشے میں بدمست ہو کر اسلام اور امت مسلمہ کے دیرینہ دشمن سے اتحاد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آل خلیفہ اور آل نہیان رژیموں نے صیہونزم اور صیہونی رژیم سے متحد ہو کر امت مسلمہ کے خلاف نیا محاذ کھول رکھا ہے۔ ایک طرف مقبوضہ فلسطین میں کروڑوں فلسطینی ظالمانہ محاصرے کا شکار ہیں اور اسرائیل مسلسل غیر قانونی طور پر یہودی بستیوں میں توسیع کے ساتھ ساتھ اسلامی ممالک پر وحشیانہ حملے جاری رکھے ہوا ہے جبکہ دوسری طرف بحرین اور امارات کے حکمران اس سے دوستی کی پینگیں بڑھا رہے ہیں۔