عمران خان کی ذاتی معالجین سے علاج معالجہ کی درخواست مسترد
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
انسداد دہشت گردی عدالت نے عمران خان کی ذاتی معالجین سے علاج معالجہ کی درخواست مسترد کر دی۔
راولپنڈی میں عمران خان کی ذاتی معالجین سے میڈیکل چیک اپ کی درخواست پر سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج سید امجد علی شاہ نے درخواست پر سماعت کی۔
درخواست کے متن میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ عمران خان کا ذاتی معالجین ڈاکٹر عاصم، ڈاکٹر خرم اور ڈاکٹر ثمینہ سے طبی معائنہ کروایا جائے۔
دلائل میں کہا گیا کہ ذاتی معالجین سے طبی معائنہ آئینی، قانونی اور اخلاقی حق ہے، سابق وزیراعظم نواز شریف کو بھی ذاتی معالج دستیاب تھے۔ راولپنڈی جیل رول 795 کے تحت انتظامیہ کسی بھی قسم کے میڈیکل چیک اپ سے متعلق فیملی کو آگاہ کرنے کی پابند ہے۔
سماعت کے بعد وکیل صفائی فیصل ملک نے کہا کہ عمران خان سابق وزیراعظم اور قومی ہیرو ہیں، یہ ان کا بنیادی حق ہے۔
فیصل ملک کے مطابق سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے میڈیکل رپورٹ جمع نہیں کروائی بلکہ عدالت کو بتایا کہ عمران خان کا علاج جاری ہے۔
بعد ازاں راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد شاہ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے عمران خان کی ذاتی معالجین سے علاج معالجہ کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت کے مطابق جیل رولز کے تحت ملزم عمران خان کا پراپر علاج معالجہ جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عمران خان کی ذاتی معالجین سے علاج معالجہ کی درخواست
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔