سینیٹ میں کشمیر، بلوچستان، سیکورٹی صورتحال اور عمران خان پر بحث
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260207-08-23
اسلام آباد (نمائندہ جسارت) سینیٹ کا اجلاس پریزائیڈنگ افسر سلیم مانڈی والا کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں کشمیر، بلوچستان، سیکورٹی صورتحال اور بانی پی ٹی آئی سے متعلق بحث ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹ نے کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔ قرارداد وفاقی وزیر برائے امور کشمیر انجینئر امیر مقام نے پیش کی۔ قرارداد کے متن کے مطابق ایوان بھارت کے غیر قانونی قبضے کی مذمت کرتا ہے، کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتا ہے اور ان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بلوچستان میں ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب میں بسنت منانے پر تنقید کی۔ جس پر طلال چودھری نے جواب دیا کہ دہشتگرد یہی چاہتے ہیں کہ پاکستان میں معمول کی زندگی نہ ہو۔ پنجابی اپنے وطن سے زیادہ بلوچستان سے محبت کرتے ہیں۔ سینیٹر ایمل ولی خان نے دہشتگردی کی مذمت کرتے ہوئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا۔ ایوان میں مولانا عبدالواسع نے بلوچستان میں بلوچ اور پختون اتحاد پر زور دیا۔ اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ایک انسان اور قیدی ہیں جنہیں قانونی حقوق اور علاج کی سہولیات نہیں دی جا رہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ کا 4 رکنی وفد بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرے جس میں 2 حکومتی اور 2 اپوزیشن اراکین شامل ہوں۔ سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے سنجیدہ مسائل ہیں۔ ملک میں عدل کا نظام ختم ہوچکا ہے۔ اس موقع پر رانا ثناء اللہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو قانون کے مطابق سہولیات دی جا رہی ہیں۔ بہتر انداز میں بات آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ایوان میں پاکستان میں نجی میڈیکل کالجز کی جانب سے اضافی فیسوں کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ سینیٹر روبینہ قائم خانی نے کہا کہ نجی میڈیکل کالجز معیارات پر پورا نہیں اترے اور 25 سے 30 لاکھ روپے فیس وصول کر رہے ہیں جب کہ آغا خان میڈیکل کالج لگ بھگ ایک کروڑ روپے فیس لے رہا ہے۔ سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ ہر میڈیکل کالج بچوں کو لوٹ رہا ہے۔ وزیر مملکت صحت نے بتایا کہ پاکستان میں نجی میڈیکل کالجز کی فیس کا بینچ مارک 18 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے۔ بعد ازاں پریزائیڈنگ افسر نے معاملہ متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیا۔ ایوان میں قواعد ضابطہ کار و انصرام کارروائی سینیٹ 2012 کے قاعدہ 166 کے ذیلی قاعدہ 5 میں مجوزہ ترمیم کی قرارداد پیش کی گئی۔ یہ قرارداد سینیٹر عبدالقادر، سینیٹر سلیم مانڈی والا، سینیٹر انوشہ رحمان، سینیٹر پلوشہ اور دیگر کی جانب سے پیش کی گئی۔ اس موقع پر حکومت نے ترمیم کی مخالفت کی جبکہ رانا ثناء اللہ نے بل پر کارروائی روکنے اور ملتوی کرنے کی درخواست کی۔ پریزائیڈنگ افسر سلیم مانڈی والا نے کہا کہ بل پہلے ہی مہینوں سے تاخیر کا شکار ہے۔ بعد ازاں انہوں نے بل پر رائے شماری کرائی اور ایوان نے اکثریتی رائے سے بل منظور کر لیا۔ بعد ازاں سینیٹ کا اجلاس پیر کی شام 4 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی نے کہا کہ
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس