ممتاز شاعر صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کو مداحوں سے بچھڑے 48 برس بیت گئے
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک) ممتاز شاعر صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کو مداحوں سے بچھڑے 48 برس بیت گئے۔
بچوں کے لئے ان کی تخلیقات کو بے حد مقبولیت ملی، ٹوٹ بٹوٹ ان کا ہی تخلیق کردہ کردار ہے جو آج بھی ہمارے ذہن پر نقش ہے، ٹوٹ بٹوٹ کے خالق صوفی غلام مصطفی تبسم 4 اگست 1899ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے۔
صوفی غلام مصطفیٰ نے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد تدریس کا پیشہ اپنایا اور لاہور کے تعلیمی اداروں سے وابستہ رہے، ریٹائرمنٹ کے بعد خانہ فرہنگ ایران کے ڈائریکٹر، لیل و نہار کے مدیر اور کئی دیگر اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئے۔
صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کا ایک نمایاں حوالہ بچوں کا ادب ہے، انہوں نے اپنی نظموں سے بچوں کو لطف اندوز ہونے کے ساتھ علم و عمل کی طرف راغب کیا، بچوں کے لئے ان کی تخلیقات کو بے حد مقبولیت ملی۔
حکومت پاکستان نے صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز سے نوازا، ایرانی حکومت نے انہیں نشان سپاس عطا کیا۔
اردو ادب کا یہ روشن ستارہ 7 فروری 1978 کو ہمیشہ کے لئے ڈوب گیا، صوفی غلام مصطفیٰ تبسم لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: صوفی غلام مصطفی
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔