لاہور(نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ مسنگ پرسن کا معاملہ صرف پاکستان میں نہیں ہے بلکہ پوری دنیا میں ہے، قانون کے مطابق سویلین کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہو سکتا ہے۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں خود مسنگ پرسنز والے معاملے میں جوڈیشل کمیشن کا حصہ ہوں، ہم سنجیدگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں، لاپتہ افراد پر بہت کام کیا، کمیشن بھی بنایا گیا، مسنگ پرسنز کیلئے ایک ریلیف بیکج متعارف کرایا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں ہلاک افراد میں اکثر مسنگ پرسنزہوتے ہیں، نئی کمیٹی لاپتہ افراد کے معاملات پر مزید توجہ دے گی، سوشل میڈیا پرتوہین مذہب روکنےکے حوالے سے حکومت نے بہت کام کیا، حکومتی اقدامات کےباعث توہین مذہب کے کیسز میں کمی ہوئی، چیزوں کو مزید درست کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ گھریلو تشدد پر بھی قانون سازی کررہے ہیں اسلام آباد کی حد تک قانون نافذ کردیا ہے، اختلاف کا مطلب لڑائی نہیں بلکہ مہذب معاشرے کا حسن ہے، آئینی ترمیم پر مجھ پر بہت تنقید ہوئی ہے، آج موقع ہے کہ میں اپنا دفاع آپ سامنے رکھوں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایسے واقعات ہوئے کہ سپریم کورٹ نے کریز سے باہر نکل کر کھیلا، سپریم کورٹ نے ایک وزیراعظم کو سزائے موت کی توثیق کی ، وزرائے اعظم کو گھر بھیجا، جو مرضی ہوجائے یہ بات طے ہے کہ بائیس کڑور عوام کی پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار ہے، 17 غیر منتخب ججز کو پارلیمنٹ کی قانون سازی ختم کرنے کا اختیار نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 26 ویں ترمیم کے لیے بار ایسوسی ایشنز کو تجاویز کےلیے بھیجا، 26 ویں ترمیم کا مسودہ تمام سیاسی جماعتوں کو بھجوایا تھا، اختر حسین نے سول سوسائٹی سے مشاورت کا مشورہ دیا تھا، ہم نے سپیکر قومی اسمبلی کو یہ اختیار دیا کہ وہ سول سوسائٹی کو چیزیں بھیجیں۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ججز کے ٹرانسفر کا اختیار صدر اور چیف جسٹس کا تھا، ہم نے ججز ٹرانسفر کا طریقہ کار مزید بہتر کیا ہے، جو جوڈیشل کمیشن ججز کو تعینات کرسکتا ہے تو وہ ان کی ٹرانسفر کیوں نہیں کرسکتا، اگر پنجاب کے پاس اچھے ججز ہیں تو کیا سندھ ، کے پی کے لوگوں کو حق نہیں کہ یہ ججز ان کو خدمات دیں۔

انہوں نے کہا کہ آئینی عدالت نے اپنا کام شروع کردیا ہے، وقت کے ساتھ ساتھ پتہ چلے گا کہ یہ فیصلہ درست تھا یا نہیں، 1973 سے لے کر آج تک سپریم کورٹ نے کسی آئینی ترمیم کو چیلنج نہیں کیا، میں وہ آخری شخص ہوتا جو سویلین کے ملٹری ٹرائل کی حمایت کرتا، لیکن جب ہم بات کرتے ہیں کہ نظام قانون اور آئین کے تحت چلنا ہے تو پھر دل کو سخت کرنا پڑتا ہے۔

وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ قانون کے تحت سویلین کا ملٹری ٹرائل ہوسکتا ہے،جب آپ ریڈ لائن کو کراس کرتے ہیں تو پھر قوانین موجود ہیں، جنہوں نے آرمی تنصیبات پر حملہ کیا ان کے ٹرائل کا فورم فوجی عدالتیں ہی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اعظم نذیر تارڑ نے نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن