مسنگ پرسن پوری دنیا کا مسئلہ، سویلین کا ملٹری ٹرائل ہو سکتا ہے: اعظم نذیر
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ مسنگ پرسن کا معاملہ صرف پاکستان میں نہیں ہے بلکہ پوری دنیا میں ہے، قانون کے مطابق سویلین کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہو سکتا ہے۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں خود مسنگ پرسنز والے معاملے میں جوڈیشل کمیشن کا حصہ ہوں، ہم سنجیدگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں، لاپتہ افراد پر بہت کام کیا، کمیشن بھی بنایا گیا، مسنگ پرسنز کیلئے ایک ریلیف بیکج متعارف کرایا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں ہلاک افراد میں اکثر مسنگ پرسنزہوتے ہیں، نئی کمیٹی لاپتہ افراد کے معاملات پر مزید توجہ دے گی، سوشل میڈیا پرتوہین مذہب روکنےکے حوالے سے حکومت نے بہت کام کیا، حکومتی اقدامات کےباعث توہین مذہب کے کیسز میں کمی ہوئی، چیزوں کو مزید درست کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ گھریلو تشدد پر بھی قانون سازی کررہے ہیں اسلام آباد کی حد تک قانون نافذ کردیا ہے، اختلاف کا مطلب لڑائی نہیں بلکہ مہذب معاشرے کا حسن ہے، آئینی ترمیم پر مجھ پر بہت تنقید ہوئی ہے، آج موقع ہے کہ میں اپنا دفاع آپ سامنے رکھوں۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایسے واقعات ہوئے کہ سپریم کورٹ نے کریز سے باہر نکل کر کھیلا، سپریم کورٹ نے ایک وزیراعظم کو سزائے موت کی توثیق کی ، وزرائے اعظم کو گھر بھیجا، جو مرضی ہوجائے یہ بات طے ہے کہ بائیس کڑور عوام کی پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار ہے، 17 غیر منتخب ججز کو پارلیمنٹ کی قانون سازی ختم کرنے کا اختیار نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ 26 ویں ترمیم کے لیے بار ایسوسی ایشنز کو تجاویز کےلیے بھیجا، 26 ویں ترمیم کا مسودہ تمام سیاسی جماعتوں کو بھجوایا تھا، اختر حسین نے سول سوسائٹی سے مشاورت کا مشورہ دیا تھا، ہم نے سپیکر قومی اسمبلی کو یہ اختیار دیا کہ وہ سول سوسائٹی کو چیزیں بھیجیں۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ججز کے ٹرانسفر کا اختیار صدر اور چیف جسٹس کا تھا، ہم نے ججز ٹرانسفر کا طریقہ کار مزید بہتر کیا ہے، جو جوڈیشل کمیشن ججز کو تعینات کرسکتا ہے تو وہ ان کی ٹرانسفر کیوں نہیں کرسکتا، اگر پنجاب کے پاس اچھے ججز ہیں تو کیا سندھ ، کے پی کے لوگوں کو حق نہیں کہ یہ ججز ان کو خدمات دیں۔
انہوں نے کہا کہ آئینی عدالت نے اپنا کام شروع کردیا ہے، وقت کے ساتھ ساتھ پتہ چلے گا کہ یہ فیصلہ درست تھا یا نہیں، 1973 سے لے کر آج تک سپریم کورٹ نے کسی آئینی ترمیم کو چیلنج نہیں کیا، میں وہ آخری شخص ہوتا جو سویلین کے ملٹری ٹرائل کی حمایت کرتا، لیکن جب ہم بات کرتے ہیں کہ نظام قانون اور آئین کے تحت چلنا ہے تو پھر دل کو سخت کرنا پڑتا ہے۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ قانون کے تحت سویلین کا ملٹری ٹرائل ہوسکتا ہے،جب آپ ریڈ لائن کو کراس کرتے ہیں تو پھر قوانین موجود ہیں، جنہوں نے آرمی تنصیبات پر حملہ کیا ان کے ٹرائل کا فورم فوجی عدالتیں ہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اعظم نذیر تارڑ نے نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
سٹی 42: کفایت شعاری اقدامات میں نائب وزیر اعظم نے مارکیٹوں کے اوقات کار بڑھا کر بڑا ریلیف دےدیا
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابقنائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے آج وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی
کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا ۔کمیٹی نے مارکیٹوں کے اوقاتِ کار، دن کے اوقات میں اضافے اور گرمیوں کے بلند درجۂ حرارت کو مدنظر رکھتے ہوئے کاروبار بند کرنے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ کیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
کمیٹی کے فیصلے کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریستوران، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز رات 11:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔
تاہم ٹیک اوے اور ڈیلیوری سروسز ان اوقات کار سے مستثنیٰ ہوں گی۔شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔ضروری خدمات بشمول فارمیسی، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات کو بھی مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر معاملات اور کیسز پر بھی غور کیا اور ان کی منظوری دی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات، اور آئی ٹی و ٹیلی کام شریک ہوئے۔اجلاس میں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے خزانہ؛ نائب وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی بھی موجود تھے
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم، اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشنز؛ نیز صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔