اسلام آباد؛ امام بارگاہ میں خودکش دھماکے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
اسلام آباد میں ترلائی امام بارگاہ میں نماز جمعہ کے دوران خود کش دھماکے کے حملہ آور کی شناخت کرلی گئی۔
ذدائع نے کہا کہ خودکش حملہ آور کا نام یاسر، پشاور کا رہائشی ہے، خود کش حملہ آور کے 4سہولتکاروں کو بھی حراست میں لے لیا گیا، خودکش حملہ آور کو راولپنڈی کے علاقے میں سہولتکاری کرنے والے بھی گرفتار کرلیے گئے۔
ذرائع نے کہا کہ خودکش حملہ آور نے حملے سے قبل مسجد کی ریکی کی، حملہ آور ایک ہفتہ پہلے بھی مسجد سے ہوکر گیا، خودکش بمبار افغانستان چار مہینے رہ کر آیا، شواہد جمع کرنے کیلئے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد بھی لی گئی۔
ذرائع نے کہا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق خود کش بمبار نے مسجد میں گھسنے سے پہلے فائرنگ کی، فائرنگ کے بعد حملہ آور نے مسجد کے ہال میں جا کر خود کو اڑا لیا۔
حملہ آور نے4 سے چھ کلو بارودی مواد استعمال کیا، جب کہ بال بیرنگ کی تعداد بہت زیادہ تھی، حملہ آور نے راستے میں 2 جبکہ اندر داخل ہو کر 6 گولیاں چلائیں، تمام گولیوں کو خول جائے وقوعہ سے مل گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حملہ آور
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔