کانیے ویسٹ کی اہلیہ بیانکا نے برہنہ تصاویر پر خاموشی توڑ دی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
کانیے ویسٹ کی اہلیہ بیانکا سینسوری نے برہنہ فیشن سے متعلق دعوؤں پر خاموشی توڑتے ہوئے کہا کہ برہنہ انداز میں نظر آنے کا فیصلہ میرا اپنا ہوتا ہے۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کانیے ویسٹ کی اہلیہ بیانکا سینسوری نے بالآخر اپنے متنازع فیشن انتخاب پر خاموشی توڑ دی۔
ایک انٹرویو میں 31 سالہ آرکیٹیکٹ نے اپنے ملبوسات کے انتخاب کے پیچھے موجود سوچ پر روشنی ڈالی۔
بیانکا سینسوری نے واضح کیا کہ میں کوئی ایسا کام نہیں کرتی جو میں خود نہ کرنا چاہوں اور جب میں برہنہ انداز میں نظر آتی ہوں تو یہ میرا اپنا فیصلہ ہوتا ہے۔
البتہ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ اپنے لباس کے حوالے سے 48 سالہ ریپر کانیے ویسٹ سے رائے ضرور لیتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں اور میرے شوہر مل کر میرے لباس پر کام کرتے ہیں، یہ ایک مشترکہ تخلیقی عمل ہوتا ہے، ایسا کبھی نہیں تھا کہ مجھے کچھ کرنے کا حکم دیا گیا ہو۔
یاد رہے کہ یہ بیان ایک سال بعد سامنے آیا ہے، جب ہارٹ لیس گلوکار کی اہلیہ نے 2025 گریمی ایوارڈز میں مکمل برہنہ لباس پہن کر انٹرنیٹ پر ہلچل مچا دی تھی، جس پر شدید تنقید بھی ہوئی تھی۔
کانیے ویسٹ اور بیانکا سینسوری نے 20 دسمبر 2022 کو کیلیفورنیا کے شہر پالو آلٹو میں ایک خفیہ تقریب کے دوران قانونی طور پر شادی کی تھی۔
اس سے قبل جنوری 2023 میں دونوں کو پہلی بار بیورلی ہلز کے والڈورف آسٹوریا ہوٹل میں ایک ساتھ دیکھا گیا تھا۔
واضح رہے کہ یہ شادی ریپر کانیے ویسٹ اور کم کرادشین کی لیحدگی کے صرف ایک ماہ بعد ہوئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کانیے ویسٹ کی اہلیہ
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔