جس نے بھی آئین پامال کرنے کی کوشش کی، وکلاء نے مزاحمت کی: رضا ربانی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی—فائل فوٹو
سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا ہے کہ جس نے بھی آئین کو پامال کرنے کی کوشش کی، وکلاء نے غیر قانونی اقدام کے خلاف مزاحمت کی۔
انہوں نے عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں بذریعہ ویڈیو لنک اپنے خطاب میں کہا کہ بار ایسوسی ایشنز کی لمبی تاریخ ہے اور وکلاء نے ہمیشہ آئین کی بالادستی اور جمہوریت کے لیے کوششیں کی ہیں۔
پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما رضا ربانی نے کہا کہ وکلاء نے مشرف اور ایوب کے غیر قانونی اقدام کے خلاف بھی جہدوجہد کی۔
اسلام آباد سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے.
انہوں نے کہا کہ بار ایسوسی ایشن نے کبھی سیاسی جماعتوں کو استعمال نہیں کیا لیکن موجودہ بار ایسوسی ایشن کی قیادت کا کردار سول سپرمیسی کے لیے نظر نہیں آ رہا۔
رضا ربانی نے کہا کہ بیانات آتے رہتے ہیں مگر ماضی کی طرح قیادت کا دو ٹوک مؤقف سامنے نہیں آتا۔
سابق چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ آئین میں بہت سی غیر ضروری ترامیم کی گئیں اور یہ آئینی ترمیم ججز کے ٹرانسفر اور ججز کی تعیناتی سے متعلق کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن جو بنایا گیا اس میں جوڈیشل ممبران کی تعداد کم ہے اور جوڈیشل کمیشن میں وفاقی وزیرِ قانون کا ہونا غیر ضروری ہے۔
رضا ربانی نے یہ بھی کہا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ اب آئین میں مزید ترمیم کی ضرورت نہیں ہے، اب 28 ویں آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں اور اگر 28 ویں آئینی ترمیم ہو گی تو آئین کا ڈھانچہ مزید متاثر ہو گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سابق چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ وکلاء نے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔