میاں بیوی خود جو معاملہ حل کر سکتے ہیں وہ جج اور وکیل نہیں کر سکتے،جسٹس محسن اختر
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260207-08-24
اسلام آباد (نمائندہ جسارت) اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا ہے کہ میاں بیوی خود جو معاملہ حل کر سکتے ہیں وہ جج اور وکیل نہیں کر سکتے‘جج اوروکیل میاں ، بیوی اور بچوں کے دشمن ہوتے ہیں‘بچوں کو تقسیم نہیں کیا جاسکتا‘ میاں بیوی میں جھگڑے ہوتے ہیں لیکن اس کوماں باپ کی لڑائی میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے‘ گھر بیوی کے نام کرانا کوئی بڑی بات نہیں‘ایک دوسرے کو معاف کرنا اور معافی مانگنا سیکھیں‘ایک کو غٖصہ آجائے تو دوسرا خاموش ہوجائے‘ہرخاتون گھر میں سخت ہوتی ہے‘ یہ عورت کاحوصلہ ہوتا ہے کہ وہ ماں باپ کو چھوڑ کرخاوند کے ساتھ رہتی ہے‘عدالت کا اگلی سماعت پر تمام بچوں کو عدالت میں پیش کرنے کاحکم۔ تفصیلات کے مطابق میاں بیوی کی لڑائی اور بچوں کی حوالگی کے کیس میں جسٹس محسن اختر کیانی نے اہم ریمارکس دیے ہیں۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں میاں بیوی کی لڑائی اور بچوں کی حوالگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس میں جسٹس محسن اختر کیانی نے خاتون شہری کی جانب سے بچوں کی حوالگی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی، جس میں میاں بیوی اپنے وکلا کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر تمام بچوں کو عدالت میں پیش کیا جائے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ بچوں کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا اور میاں بیوی میں جھگڑے ہوتے ہیں لیکن ان کو ماں باپ کی لڑائی میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔ سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ گھر بیوی کے نام کرانا کوئی بڑی بات نہیں ، ان کی اپنی جائیداد بھی ان کی اہلیہ کے نام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جج اور وکیل میاں بیوی اور بچوں کے دشمن ہیں ، میاں بیوی خود جو معاملہ حل کر سکتے ہیں وہ جج اور وکیل نہیں کر سکتے۔عدالت کے استفسار پر وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ ساڑھے 12 سے ساڑھے 4 سال کی عمر کے 4 بچے ہیں، جن میں 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں شامل ہیں۔ ایک چھوٹا بیٹا خاتون کے پاس ہے جب کہ 3 بچے خاوند کے پاس ہیں۔ عدالت نے پوچھا کہ کیا میاں بیوی میں علیحدگی ہو چکی ہے، جس پر دونوں نے عدالت میں بیان دیا کہ نہ علیحدگی ہوئی ہے اور نہ وہ علیحدگی چاہتے ہیں۔ عدالت کے اس سوال پر کہ پھر مسئلہ کیا ہے کہ 4 سال سے الگ رہ رہے ہیں، خاوند نے بیان دیا کہ وہ نہ علیحدگی چاہتا ہے اور نہ دوسری شادی کی ہے، بیوی گھر اپنے نام کرانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ یہ کوئی بڑی بات نہیں۔جسٹس محسن اختر کیانی نے میاں بیوی کو ہدایت کی کہ وہ عرصہ سے عدالتوں میں دھکے کھا رہے ہیں، اس لیے دونوں بیٹھ کر معاملہ حل کریں، ایک دوسرے کو معاف کرنا اور معافی مانگنا سیکھیں۔ اگر ایک کو غصہ آئے تو دوسرے کو خاموش رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہر خاتون گھر میں سخت ہوتی ہے۔ عورت کا حوصلہ ہوتا ہے کہ وہ ماں باپ کو چھوڑ کر خاوند کے ساتھ رہتی ہے۔عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ اب بچوں کی تربیت کا وقت ہے ، چند سال میں بچے بڑے ہو جائیں گے تو دونوں سے نفرت کریں گے۔ اس وقت اگر صلح بھی کریں گے تو وہ کام نہیں آئے گی۔ عدالتی استفسار پر دونوں میاں بیوی ایک دوسرے سے معافی مانگنے پر تیار ہو گئے، جس پر عدالت نے دونوں کو کمرہ عدالت میں ساتھ بیٹھنے کی ہدایت کی۔عدالت نے میاں بیوی کو ہدایت دی کہ آئندہ سماعت پر چاروں بچوں کو عدالت میں پیش کیا جائے۔ بعد ازاں کیس کی سماعت آئندہ جمعہ تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جسٹس محسن اختر کیانی نے عدالت میں پیش معاملہ حل کر جج اور وکیل میاں بیوی اور بچوں عدالت نے کی لڑائی نہیں کر کر سکتے بچوں کو بچوں کی
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔