سنگاپور: عمر رسیدہ خاتون کو جنگلی پرندوں سے ہمدردی مہنگی پڑگئی، بھاری جرمانہ عائد
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
سنگاپور کی ایک 71 سالہ خاتون کو جنگلی پرندوں کو بار بار دانہ ڈالنے کے جرم میں 3,200 سنگاپور ڈالر (تقریباً 2 لاکھ 28 ہزار پاکستانی روپے) جرمانہ عائد کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا میں پرندے کا سب سے بڑا مجسمہ کہاں نصب ہے؟
مقامی میڈیا کے مطابق سانموگمناتھن شاملا نامی خاتون نے وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت عائد 4 الزامات کا اعترافِ جرم کیا جبکہ اسی نوعیت کے مزید 5 واقعات کو بھی عدالت نے سزا سناتے وقت مدنظر رکھا۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ شاملا کو اس جرم پر سزا دی گئی ہو۔ گزشتہ برس مئی میں بھی انہیں اسی جرم اور پرندوں کو پکڑنے کی ایک کارروائی میں مداخلت کرنے پر 1,200 سنگاپور ڈالر جرمانہ کیا گیا تھا۔
اس وقت انہوں نے عدالت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ آئندہ ایسا نہیں کریں گی تاہم محض ایک ماہ بعد انہوں نے دوبارہ پرندوں کو دانہ ڈالنا شروع کر دیا۔
استغاثہ کی جانب سے پیش کردہ شواہد کے مطابق خاتون نے جولائی 2025 سے جنوری 2026 کے دوران کم از کم 9 مواقع پر کبوتروں کو اناج اور روٹی کھلائی۔
عدالت میں دکھائی گئی ویڈیو فوٹیج میں انہیں ٹوا پایوہ میں اپنے فلیٹ کے قریب بڑی تعداد میں پرندوں کے جھرمٹ کے درمیان دیکھا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیے: آسٹریلیا: جانوروں کے تحفظ سے وابستہ کارکن نے پرندے کی مدد کیسے کی؟
عدالت کو بتایا گیا کہ شاملا نے اپنے علاقے کے رکنِ پارلیمنٹ سے ملاقات کر کے بھی ندامت کا اظہار کیا مگر اس کے صرف 3 دن بعد ہی وہ دوبارہ پرندوں کو دانہ ڈالتی پکڑی گئیں۔ استغاثہ نے ان کے رویے کو قانون کی مسلسل خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مؤثر جرمانے کی ضرورت پر زور دیا۔
بغیر وکیل کے عدالت میں پیش ہونے والی شاملا نے بتایا کہ وہ بے روزگار ہیں اور ان کے پاس طبی بیمہ بھی موجود نہیں۔ انہوں نے جرمانہ کم کرنے یا کمیونٹی سروس کی اجازت دینے کی درخواست کی تاہم جج نے 3,200 ڈالر جرمانہ برقرار رکھا۔
مزید پڑھیں: پرندے ہرن کے دوستانہ رویے سے کیا فائدہ اٹھاتے ہیں؟
فیصلے کے بعد خاتون نے کہا کہ وہ جرمانے کی پوری رقم فوری طور پر ادا کر دیں گی۔
عدالت کے مطابق بار بار جرم کرنے کی صورت میں انہیں ہر الزام پر 10,000 سنگاپور ڈالر تک جرمانے کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا تھا۔
واضح رہے کہ سنگاپور میں جنگلی پرندوں کو بار بار دانہ دینا قانون کے تحت جرم ہے کیونکہ اس سے پرندوں کے قدرتی رویے متاثر ہوتے ہیں اور وہ انسانوں پر انحصار کرنے لگتے ہیں۔ علاوہ ازیں عوامی جگہوں پر خوراک ڈالنے سے صفائی کے مسائل پیدا ہوتے ہیں، پرندے زیادہ جمع ہو جاتے ہیں اور بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ لوگ جنگلی جانوروں کے ساتھ محفوظ فاصلہ رکھیں تاکہ ماحول اور عوامی صحت دونوں محفوظ رہیں۔
یہ بھی پڑھیے: لاہور چڑیا گھر میں 5 برس کے دوران 70 قیمتی جانور اور پرندے ہلاک ہونے کا انکشاف
مذکورہ خاتون نے پہلے بھی وعدہ کیا تھا کہ وہ ایسا نہیں کریں گی مگر انہوں نے دوبارہ قوانین کی خلاف ورزی کی اسی وجہ سے عدالت نے ان پر جرمانہ عائد کیا۔ْ
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پرندوں کو دانہ ڈالنے پر جرمانہ سنگاپور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پرندوں کو دانہ ڈالنے پر جرمانہ سنگاپور پرندوں کو انہوں نے خاتون نے
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔