بنگلہ دیش میں عوامی لیگ حکومت کے خاتمے پر منتج ہونے والی طلبہ قیادت میں چلنے والی عوامی تحریک نے نہ صرف مسابقتی انتخابات اور جمہوری انتقال کی راہ ہموار کی بلکہ ملکی سیاست میں امیدواروں کی ساخت کو بھی یکسر تبدیل کر دیا ہے۔

کئی دہائیوں بعد پہلی مرتبہ بنگلہ دیش کے انتخابی بیلٹ پر صرف معمر اور روایتی سیاستدانوں کا غلبہ نظر نہیں آ رہا، بلکہ بڑی تعداد میں نوجوان امیدوار قومی اسمبلی میں پہنچنے کی دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں۔ ان میں سے اکثر وہ ہیں جو 2024 کی عوامی تحریک کے دوران سڑکوں پر متحرک رہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل بنگلہ دیش (TIB) کے ‘نو یور کینڈیڈیٹ’ پورٹل کے مطابق آئندہ انتخابات میں 25 سے 44 سال کی عمر کے امیدواروں کی شرح 27.

56 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 25 سے 34 سال کے امیدوار اس سال 9.41 فیصد ہیں، جو 2024 میں 3.96 فیصد، 2018 میں 0.16 فیصد جبکہ 2014 میں صفر تھی۔ قومی یوتھ پالیسی 2017 کے تحت 18 سے 35 سال کے شہریوں کو نوجوان قرار دیا جاتا ہے۔

دوسری جانب 65 سال سے زائد عمر کے امیدواروں کی شرح نمایاں طور پر کم ہو کر 17.35 فیصد رہ گئی ہے، جو 2014 میں 66.39 فیصد تھی۔ اس کے علاوہ 1,518 امیدوار، جو کل امیدواروں کا تقریباً تین چوتھائی بنتے ہیں، پہلی بار قومی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے بنگلہ دیش کے آئندہ عام انتخابات قریب، کس سیاسی جماعت کا پلڑا بھاری ہے؟

انتخابی ماہر عبدالعلیم کے مطابق جولائی کی تحریک بنیادی طور پر نوجوانوں نے لیڈ کی، اور انہوں نے ثابت کیا کہ وہ قیادت کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں نے ان کی قربانیوں کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں ٹکٹ دیے۔

اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ 2008 کے بعد امیدواروں کی اوسط عمر میں نمایاں کمی آئی ہے۔ 2008 میں امیدواروں کی اوسط عمر 72 سال تھی، جو اب کم ہو کر 51.8 سال رہ گئی ہے۔

ووٹروں کی آبادی میں بھی بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں نوجوان ووٹرز کل ووٹروں کا 42 فیصد سے زائد ہیں، اور یہ 2008 کے بعد پہلی مرتبہ مسابقتی انتخابات میں ووٹ ڈالیں گے۔

نئی اور پرانی سیاسی جماعتوں کے درمیان فرق نمایاں ہے۔ نئی جماعتیں نوجوانوں کو تبدیلی کی علامت بنا رہی ہیں جبکہ پرانی جماعتیں اب بھی تجربہ کار، عمر رسیدہ امیدواروں پر انحصار کر رہی ہیں۔

جولائی تحریک کے منتظمین کی جانب سے قائم کی گئی نیشنل سٹیزن پارٹی (NCP) پہلی بار قومی انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔ پارٹی کے 32 امیدواروں میں سے 19 کی عمر 25 سے 34 سال کے درمیان ہے، جو تقریباً 60 فیصد بنتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے نیشنل سٹیزن پارٹی کا 24 نکاتی منشور جاری، نئے بنگلہ دیشی آئین کا وعدہ

اسی طرح گونو اودھیکار پریشد کے 90 امیدواروں میں سے 35 فیصد کی عمر 25 سے 34 اور 31 فیصد کی عمر 35 سے 44 سال کے درمیان ہے۔

اس کے برعکس، بی این پی کے 288 امیدواروں میں صرف دو 25 سے 34 سال کے ہیں، جبکہ جماعتِ اسلامی کے 224 امیدواروں میں سے صرف 3 اس عمر کے ہیں۔

نارتھ ساؤتھ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ایس کے توفیق ایم حق کے مطابق، ’جب روایتی سیاسی قیادت ناکام ہوئی تو نوجوانوں نے خلا پُر کیا۔ اب سیاسی جماعتیں اس حقیقت کو تسلیم کر رہی ہیں، خاص طور پر شہری علاقوں میں نوجوان امیدواروں کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔‘

ماہرین کے مطابق تقریباً 4 کروڑ نوجوان ووٹرز اس انتخاب میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں، جس کے باعث بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک نئی نسل کے ابھرنے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امیدواروں میں امیدواروں کی انتخابات میں بنگلہ دیش کے مطابق کی عمر سال کے

پڑھیں:

کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج

کراچی:

شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔

اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔ 

23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔ 

مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔ 

مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔ 

واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔ 

واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ 

گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ