پہلی جنگ عظیم کی یادگار کو مسمار نہیں کیا گیا بلکہ محفوظ بنانے کی کاوش کے تحت احتیاط سے منتقل کیا گیا ہے، سی ڈی اے کی وضاحت
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
پہلی جنگ عظیم کی یادگار کو مسمار نہیں کیا گیا بلکہ محفوظ بنانے کی کاوش کے تحت احتیاط سے منتقل کیا گیا ہے، سی ڈی اے کی وضاحت WhatsAppFacebookTwitter 0 7 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس):وفاقی ترقیاتی ادارہ (سی ڈی اے) نے وضاحت کی ہے کہ پہلی جنگ عظیم کی یادگار کو مسمار نہیں کیا گیا بلکہ محفوظ بنانے کی کاوش کے تحت احتیاط سے منتقل کیا گیا ہے، میڈیا ادارے اشاعت سے پہلے حقائق کی تصدیق کریں، یہ یادگار سی ڈی اے کی نگرانی میں رہاڑہ گاؤں کے قریب شمالی بائی پاس کے گول چکر کے پاس دوبارہ نصب کی جائے گی۔
یہاں جاری وضاحتی بیان کے مطابق اس منتقلی سے عوامی رسائی اور یادگار کی نمایاں پن میں بہتری کی توقع ہے۔سی ڈی اے کے مطابق یادگار کو اس کی حفاظت، وقار اور طویل مدتی دیکھ بھال کو یقینی بنانے کے لیے منتقل کیا گیا ہے۔ ساخت میں وقت کے ساتھ آنے والی خرابی کی وجہ سے اسے ایک محفوظ، زیادہ نمایاں اور عوام کے لیے قابل رسائی مقام پر منتقل کرنا ضروری تھا۔سی ڈی اے نے کہا کہ یادگار کی اصل اینٹوں اور مواد کو محفوظ رکھتے ہوئے مناسب تحفظی پروٹوکول کے تحت الگ کیا گیا تھا تاکہ درست تعمیر نو ممکن ہو سکے۔
اتھارٹی نے مزید کہا کہ اگرچہ یہ یادگار آثار قدیمہ ڈیپارٹمنٹ کی مطلع کردہ ورثہ فہرست میں شامل نہیں تھی لیکن ڈیپارٹمنٹ سے مشاورت کی گئی اور تمام ضروری طریقہ کار پر عمل کیا گیا۔ قانونی وارث کی رضامندی بھی حاصل کی گئی، جس میں غلام علی کے پڑپوتے نے منتقلی سے پہلے باضابطہ حلف نامہ اور عدم اعتراض سرٹیفکیٹ فراہم کیا۔سی ڈی اے کے مطابق ترقیاتی ضروریات کی وجہ سے ورثہ ڈھانچوں کی منتقلی ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی عمل ہے، جس کی مثالیں امریکہ میں کیپ ہیٹرس لائٹ ہاؤس، لندن میں سنگ مرمر آرچ، اور بیرون ملک لندن برج کی تعمیر نو شامل ہیں۔
اتھارٹی نے زور دیا کہ تاریخی ورثہ مکمل طور پر برقرار ہے اور یہ غلام علی کی پہلی جنگ عظیم میں بہادری اور ان کے ملٹری کراس کو خراج عقیدت پیش کرتا رہے گا۔سی ڈی اے نے “مسماری” کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ حقائق کے خلاف ہے، اور یہ اقدام ذمہ دارانہ تحفظ اور ورثہ کی حفاظت کی عکاسی کرتا ہے۔میڈیا ادارے اشاعت سے پہلے حقائق کی تصدیق کریں، ادارے نے خبردار کیا کہ گمراہ کن اور سنسنی خیز رپورٹنگ کو دانستہ غلط معلومات اور جعلی خبروں کے طور پر دیکھا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد دھماکہ، پشاور اور نوشہرہ میں چھاپے، داعش کے افغانی ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار مسئلہ کشمیر کے حل تک دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ڈاکٹر پیر نوید الحسن مشہدی پاکستان میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے “ایکسپلور اینڈ انویسٹ” ایوارڈز 2026 منعقد صومالیہ کی پاکستان سے یکجہتی، اسلام آباد دھماکے کی شدید مذمت فراڈ کیس؛ سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی کو عدالت سے بڑا ریلیف مل گیا اسلام آباد دھماکہ: برطانوی اور آسٹریلوی ہائی کمشنر کا اظہار مذمت صدر اور وزیراعظم کی امام بارگاہ دھماکے کی مذمت، رپورٹ طلبCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: منتقل کیا گیا ہے پہلی جنگ عظیم یادگار کو سی ڈی اے کے تحت
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔