اسلام آباد کے سبز اثاثوں اور مارگلہ ہلز کو محفوظ کرنے کا تاریخی فیصلہ کرلیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد میں پہلی مرتبہ درختوں کی باقاعدہ مردم شماری کا آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد دارالحکومت کے شہری علاقوں اور قدرتی جنگلات کو محفوظ بنانا اور شفاف تحفظی نظام قائم کرنا ہے۔
8 انچ قطر سے بڑے تمام درخت ریکارڈ میں شاملسی ڈی اے کے چیئرمین اور ممبر ماحولیات کی ہدایات پر انوائرنمنٹ وِنگ کی ٹیمیں، ماحولیاتی تحفظ کے عملے کے تعاون سے، ان تمام درختوں کو نمبر لگا کر ریکارڈ کر رہی ہیں جن کا تنا کم از کم آٹھ انچ قطر رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی، پولن الرجی سے نجات یا نیا ماحولیاتی بحران؟
یہ مردم شماری اسلام آباد کے تمام شہری سیکٹرز اور مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں کی جا رہی ہے۔
مارگلہ ہلز نیشنل پارک کا مکمل احاطہسی ڈی اے حکام کے مطابق مارگلہ ہلز نیشنل پارک کا کل رقبہ 15,782.
یہ قدم حالیہ دنوں میں شکرپڑیاں، سیکٹر ایچ-8 اور پارک روڈ پر درختوں کی کٹائی پر عوامی اور ماحولیاتی حلقوں کے شدید ردعمل کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
اس کے علاوہ بھارہ کہو میں سرکاری زمین پر غیرقانونی قبضے کی ناکام کوشش نے بھی درختوں اور جنگلات کے تحفظ کی ضرورت کو مزید اجاگر کیا۔
یہ بھی پڑھیے اسلام آباد میں پیپر ملبری کی جگہ کون سے پودے لگائے گئے ہیں؟
سی ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک کی حدود کے تحفظ کے لیے 1905 میں تیار کیے گئے جی ٹی شیٹس مستند ریکارڈ کی حیثیت رکھتے ہیں، جو کسی بھی قسم کی تجاوزات کے خلاف قانونی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
غیرقانونی کٹائی کی مؤثر نگرانیدرختوں کی مردم شماری کے بعد ہر درخت کا باقاعدہ ریکارڈ دستیاب ہوگا، جس سے درختوں کی کٹائی کے اجازت ناموں کی سخت نگرانی ممکن ہو سکے گی اور غیرقانونی اقدامات کے خلاف فوری کارروائی کی جا سکے گی۔
سی ڈی اے کے مطابق یہ مردم شماری نہ صرف مارگلہ ہلز کے قانونی تحفظ کو مضبوط بنائے گی بلکہ اسلام آباد کی موسمیاتی مزاحمت (کلائمٹ ریزیلینس) اور ماحول دوست منصوبہ بندی میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گی۔
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ سی ڈی اے کا یہ اقدام پاکستان میں درختوں کی مردم شماری کے لیے ایک ادارہ جاتی ماڈل بن سکتا ہے، جسے دیگر شہروں اور صوبوں میں بھی اپنایا جا سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام اباد درخت شماری سی ڈی اے
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام اباد سی ڈی اے مارگلہ ہلز نیشنل پارک درختوں کی کٹائی سی ڈی اے اسلام ا
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔