شہدائے ترلائی اسلام آباد کی نماز جنازہ ادا، علامہ راجہ ناصر عباس نے بڑا اعلان کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
نمازِ جنازہ کے بعد سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے خطاب کرتے ہوئے صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا کھلی دہشتگردی اور انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ شہداء کے خون کا حساب لیا جائے گا اور پرامن مگر بھرپور احتجاجی تحریک جاری رکھی جائے گی۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ مسجد و امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی نمازِ جنازہ جی نائن ٹو، جامع الصادق میں ادا کر دی گئی۔ نماز جنازہ کی امامت علامہ شیخ شفا نجفی نے کی جبکہ اس موقع پر سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، علامہ انور علی نجفی، علامہ امین شہیدی، علامہ حسنین گردیزی، علامہ احمد اقبال رضوی سمیت علما کرام، سیاسی و مذہبی رہنماؤں، لواحقین اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر فضا سوگوار رہی جبکہ شرکاء کی آنکھیں اشکبار تھیں۔ نمازِ جنازہ کے بعد سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے خطاب کرتے ہوئے صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا کھلی دہشتگردی اور انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ شہداء کے خون کا حساب لیا جائے گا اور پرامن مگر بھرپور احتجاجی تحریک جاری رکھی جائے گی۔ اس موقع پر آئی جی اسلام آباد بھی موجود تھے، جن کی موجودگی میں شرکاء نے دہشتگردی کے خلاف اور امن کے حق میں نعرے لگائے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو فوری طور پر گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔ نمازِ جنازہ کے بعد شرکاء نے شہداء کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے ذریعے قوم کو تقسیم کرنے کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی اور پاکستانی قوم متحد ہوکر امن دشمن عناصر کا مقابلہ کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ راجہ ناصر عباس
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔