فراسان جزائر کے ساحلوں کی طرف ’طوطا مچھلی‘ کو کیا چیز کھینچ لاتی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
طوطا مچھلی فراسان جزائر کے گرم اور مرجان سے بھرپور پانیوں میں بھرپور انداز میں پائی جاتی ہے۔ یہ ماحول اس کی افزائشِ نسل کے لیے نہایت اہم ہے اور مقامی سمندری ماحولیاتی نظام کی صحت میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: اسکردو کی قیمتی ٹراؤٹ مچھلی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی زد میں
طوطا مچھلی کائی اور سمندری گھاس کو خوراک بنا کر قدرتی صفائی کرنے والے کے طور پر کام کرتی ہے، جس سے مرجانی چٹانوں کا نازک توازن برقرار رہتا ہے۔
مارچ کے آخری اور اپریل کے آخری ہفتے کے درمیان الحسيس ساحل ایک شاندار قدرتی منظر پیش کرتا ہے، جب ہزاروں کی تعداد میں طوطا مچھلیاں منظم جھنڈوں کی صورت میں یہاں کا رخ کرتی ہیں۔
مکمل چاند کے زیرِ اثر ہونے والی یہ ہجرت افزائشِ نسل اور انڈے دینے کے فطری عمل کا نتیجہ ہوتی ہے، جو سمندر میں ایک دلکش منظر تشکیل دیتی ہے۔
وزارتِ ماحولیات، پانی اور زراعت کے جازان ریجن میں قائم ذیلی دفتر کے مطابق مرجانی چٹانوں کے اردگرد موجود کم گہرے اور کائی سے بھرپور پانی ان بڑی تعداد میں آنے والی طوطا مچھلیوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ اور وافر خوراک فراہم کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: لاطینی امریکا کی مچھلی سکھر میں پکڑی گئی، ماہرین کو تشویش لاحق
واضح رہے کہ سعودی عرب کے جنوب مغرب میں جازان کے علاقے میں واقع جزائر فراسان تازہ مچھلیوں کی پیداوار میں اپنی انفرادیت کی وجہ سے بحیرہ احمر میں اپنے منفرد مقام کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہ جزائر متنوع مچھلیوں کی دولت سے مالا مال ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سعودی عرب طوطا مچھلی ماحولیاتی نظام وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: طوطا مچھلی ماحولیاتی نظام وی نیوز طوطا مچھلی
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔