آرمی تنصیبات پر حملہ آوروں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں ہی چلیں گے: وزیر قانون
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا ہے کہ جن افراد نے آرمی تنصیبات پر حملہ کیا، ان کے خلاف مقدمات کی سماعت کے لیے صرف فوجی عدالتیں مجاز ہیں۔
عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ قانون کے نظام کو پہلے ہی بہت بہتر بنایا جا چکا ہے اور اختلاف رائے کا مطلب کسی لڑائی یا انتشار کا سامان نہیں بلکہ مہذب معاشرے کی نشانی ہے۔
انہوں نے آئینی ترمیم کے حوالے سے اپنے خلاف ہونے والی تنقید کا بھی جواب دیا اور کہا کہ 22 کروڑ عوام کی نمائندہ پارلیمنٹ ہی قانون سازی کی واحد اور حتمی اتھارٹی رکھتی ہے، آئینی عدالت نے اپنے فیصلے دے دیے ہیں اور وقت کے ساتھ یہ واضح ہو جائے گا کہ یہ فیصلے درست تھے یا نہیں۔
اعظم نذیر تارڑ نے ججز کے تبادلے کے معاملے پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی، ججز کے ٹرانسفر کا اختیار صدر اور چیف جسٹس کے پاس ہوتا ہے، لیکن عدالتی کمیشن کی جانب سے تعینات ججز کو بھی خدمات کے لیے دیگر صوبوں میں تعینات کیا جا سکتا ہے۔
وفاقی وزیر قانون نے مزید کہا کہ آئین میں ترمیم کا اختیار صرف پارلیمنٹ کو حاصل ہے اور 1973ء سے آج تک سپریم کورٹ نے کسی آئینی ترمیم کو چیلنج نہیں کیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سویلین ملٹری ٹرائل کے حوالے سے حمایت یا مخالفت کا معاملہ آئین اور قانون کے دائرے میں طے ہوتا ہے، قانون کی بالادستی اور آئین کے دائرے میں رہ کر ہی ملک میں امن و انصاف قائم رکھا جا سکتا ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا، “قانون کے تحت سویلین کا ملٹری ٹرائل ممکن ہے۔ جب کوئی ریڈ لائن عبور کرتا ہے تو اس کے لیے موجودہ قوانین کے مطابق کارروائی ضروری ہے۔ آرمی تنصیبات پر حملہ کرنے والے افراد کے ٹرائل کا فورم صرف فوجی عدالتیں ہی ہوں گی۔”
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اعظم نذیر تارڑ نے
پڑھیں:
وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائےگا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ بجٹ سے پہلے کوئی قانون سازی نہیں ہورہی۔
واضح رہے کہ قبل ازیں قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس 5 جون کو طلب کیا گیا تھا، تاہم آج قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس اچانک ملتوی کردیا گیا تھا، جس کے بعد واضح ہوگیا تھا کہ 5 جون کو بجٹ پیش نہیں ہوگا۔
قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ملتوی ہونے کے بعد میڈیا پر یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ حکومت بجٹ سے قبل کوئی اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے، تاہم طارق فضل چوہدری نے ایسی خبروں کی تردید کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews تاریخ کا اعلان طارق فضل چوہدری وفاقی بجٹ وی نیوز