data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا ہے کہ جن افراد نے آرمی تنصیبات پر حملہ کیا، ان کے خلاف مقدمات کی سماعت کے لیے صرف فوجی عدالتیں مجاز ہیں۔

عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ قانون کے نظام کو پہلے ہی بہت بہتر بنایا جا چکا ہے اور اختلاف رائے کا مطلب کسی لڑائی یا انتشار کا سامان نہیں بلکہ مہذب معاشرے کی نشانی ہے۔

انہوں نے آئینی ترمیم کے حوالے سے اپنے خلاف ہونے والی تنقید کا بھی جواب دیا اور کہا کہ 22 کروڑ عوام کی نمائندہ پارلیمنٹ ہی قانون سازی کی واحد اور حتمی اتھارٹی رکھتی ہے، آئینی عدالت نے اپنے فیصلے دے دیے ہیں اور وقت کے ساتھ یہ واضح ہو جائے گا کہ یہ فیصلے درست تھے یا نہیں۔

اعظم نذیر تارڑ نے ججز کے تبادلے کے معاملے پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی، ججز کے ٹرانسفر کا اختیار صدر اور چیف جسٹس کے پاس ہوتا ہے، لیکن عدالتی کمیشن کی جانب سے تعینات ججز کو بھی خدمات کے لیے دیگر صوبوں میں تعینات کیا جا سکتا ہے۔

وفاقی وزیر قانون نے مزید کہا کہ آئین میں ترمیم کا اختیار صرف پارلیمنٹ کو حاصل ہے اور 1973ء سے آج تک سپریم کورٹ نے کسی آئینی ترمیم کو چیلنج نہیں کیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سویلین ملٹری ٹرائل کے حوالے سے حمایت یا مخالفت کا معاملہ آئین اور قانون کے دائرے میں طے ہوتا ہے، قانون کی بالادستی اور آئین کے دائرے میں رہ کر ہی ملک میں امن و انصاف قائم رکھا جا سکتا ہے۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا، “قانون کے تحت سویلین کا ملٹری ٹرائل ممکن ہے۔ جب کوئی ریڈ لائن عبور کرتا ہے تو اس کے لیے موجودہ قوانین کے مطابق کارروائی ضروری ہے۔ آرمی تنصیبات پر حملہ کرنے والے افراد کے ٹرائل کا فورم صرف فوجی عدالتیں ہی ہوں گی۔”

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اعظم نذیر تارڑ نے

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن