بھارت کے خلاف میچ سے انکار، پی سی بی نے آئی سی سی کو خط ارسال کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا ہے کہ پاکستان بھارت کے خلاف شیڈول میچ نہیں کھیلے گا۔ پی سی بی نے اپنے خط میں اس فیصلے کی وجوہات بھی تفصیل سے بیان کی ہیں۔
ذرائع کے مطابق پی سی بی نے گروپ اے میں بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کے فیصلے سے آئی سی سی کو مطلع کر دیا ہے۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب سیکیورٹی خدشات کے باعث بنگلا دیش کو ورلڈ کپ سے باہر کر دیا گیا اور ان کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا گیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اس فیصلے کی تصدیق کی اور کہا کہ پاکستان نے یہ قدم بنگلا دیش کے ساتھ یکجہتی کے طور پر اٹھایا ہے۔ بنگلا دیش نے بھارت میں میچز کھیلنے سے سیکیورٹی خدشات کے باعث انکار کیا تھا، جس کے بعد آئی سی سی نے انہیں ٹورنامنٹ سے خارج کر کے اسکاٹ لینڈ کو شامل کر دیا۔
پی سی بی کا موقف ہے کہ کھلاڑیوں کی سیکیورٹی اولین ترجیح ہونی چاہیے اور بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ اسی تناظر میں کیا گیا۔ بنگلا دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے بھی آئی سی سی سے مطالبہ کیا تھا کہ ان کے میچز بھارت کے بجائے سری لنکا منتقل کیے جائیں کیونکہ بھارت میں کھلاڑیوں کی حفاظت کے حوالے سے سنگین خدشات موجود ہیں۔
ذرائع کے مطابق بنگلا دیش اور بھارت کے درمیان تنازع مزید بڑھا جب انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی فرنچائز کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو آئندہ سیزن سے قبل اسکواڈ سے خارج کر دیا، جس پر بنگلا دیش میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بھارت کے خلاف بنگلا دیش پی سی بی کر دیا
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔