منوج سنہا، عمر عبداللہ کے ہمراہ میٹنگ کے ساتھ ہی بھارتی وزیر داخلہ کا جموں دورہ مکمل
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
امت شاہ کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا بجٹ اجلاس جاری ہے اور اراکین اسمبلی خطے سے متعلق مختلف عوامی مسائل پر گفتگو کر رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے وزیر داخلہ امت شاہ نے جموں و کشمیر کا اپنا تین روزہ دورہ مکمل کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی موجودگی میں ایک جائزہ میٹنگ کی صدارت کی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پیغام میں امیت شاہ نے کہا کہ انہوں نے جموں و کشمیر میں جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران سرمایہ کاری، صنعت، کھیل اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں غیر معمولی پیش رفت ہوئی ہے، اور ایک ترقی یافتہ جموں و کشمیر کی تعمیر کے لئے اس رفتار کو مزید تیز کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔ یاد رہے کہ امت شاہ جمعرات کی شام مقبوضہ کشمیر کے دورے پر جموں پہنچے تھے۔ دورے کے دوران انہوں نے بین الاقوامی سرحد (آئی بی) کا بھی دورہ کیا اور سیکورٹی صورتحال پر ایک اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ کی صدارت کی جس میں فوج اور دیگر سیکورٹی ایجنسیز کے افسران نے شرکت کی۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) لیڈروں کے ایک وفد نے ست شرما کی قیادت میں امت شاہ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیر داخلہ نے اس بات پر زور دیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ترقیاتی اسکیمیں زمینی سطح تک پہنچنی چاہئیں، تاکہ ایک ترقی یافتہ اور محفوظ جموں و کشمیر کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔ ملاقات میں پارٹی کی توسیع سے متعلق امور پر بھی بات چیت ہوئی۔ امت شاہ کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا بجٹ اجلاس جاری ہے اور اراکین اسمبلی خطے سے متعلق مختلف عوامی مسائل پر گفتگو کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امت شاہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔