نوشکی، کالعدم بی ایل اے کی وحشیانہ کارروائی میں ایک ہی خاندان کے تمام افراد شہید
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
جنوری 31 کی رات نوشکی میں ایک خاندان کی زندگی ختم ہو گئی جب کالعدم بی ایل اے کے مسلح دہشتگردوں نے معروف خطیب اور استاد مفتی امشاد علی کے گھر پر دھاوا بول دیا۔ اس حملے میں مفتی امشاد علی، ان کی بیوی اور 3 بچے آنیقا (3 سال)، عمر (16 سال) اور طلحہ (14 سال) شہید ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کا اقوامِ متحدہ سے بی ایل اے کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کا مطالبہ، سلامتی کونسل سے فوری اقدام کی اپیل
بی ایل اے کے دہشتگرد جانتے تھے کہ گھر میں خواتین اور بچے موجود ہیں۔ یہ کوئی آپریشن نہیں تھا بلکہ ایک ہدف بنا کر قتل کرنے کی کارروائی تھی۔ مفتی امشاد علی نے آخری لمحے میں اپنے 4 سالہ بیٹے کو ایک بریف کیس میں چھپا دیا اور اسے کہا کہ کچھ نہ بولے، نہ روے، چاہے جو کچھ بھی سنے۔ خود انہوں نے موت کی طرف قدم بڑھایا تاکہ باقی خاندان کو بچانے کی کوشش کریں۔
دہشتگرد گھر میں خون ریزی کے بعد وہاں سے چلے گئے، اور بچہ 2 دن تک بریف کیس میں قید رہا۔ پانی اور خوراک کے بغیر یہ بچہ شدید صدمے اور خوف میں مبتلا رہا۔ جب اسے بالآخر زندہ پایا گیا، تو اس کی حالت ایسی تھی کہ وہ بولنا ہی بھول گیا تھا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ شاید کبھی معمول کی زندگی کی طرف واپس نہ آئے۔
مفتی امشاد علی کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ ایک نرم مزاج، سیاسی سرگرمیوں سے دور خطیب اور استاد تھے، جو صرف اپنی کمیونٹی کی خدمت اور تعلیم کے لیے نوشکی منتقل ہوئے تھے۔ ایک اور بیٹی زخمی حالت میں بچ گئی اور اس وقت کوئٹہ میں زیر علاج ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کے خلاف سرگرم بی ایل اے کو اسرائیل اور بھارت کی حمایت حاصل، حقیقت آشکار
یہ واقعہ نہ صرف ایک خاندان کی تباہی بلکہ بلوچستان میں بی ایل اے کی بربریت اور دہشتگردی کی ایک تلخ یاد دہانی ہے۔ نوشکی جیسے علاقوں سے ایسی کہانیاں عام قومی مباحثوں تک پہنچتی نہیں، لیکن ہر قتل شدہ خاندان کے پیچھے ایک گھر کی خاموشی، ایک بچے کی ذہنی صدمے بھری حالت، اور انسانیت کی پامالی چھپی ہوتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلوچستان بی ایل اے مفتی امشاد علی نوشکی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان بی ایل اے مفتی امشاد علی نوشکی مفتی امشاد علی بی ایل اے
پڑھیں:
سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
اسلام آباد: سیکیورٹی فورسز نے مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گردوں کو ہلاک اور متعدد کو گرفتار کرلیا. گرفتار شدگان میں سہولت کار سمیت مرد اور خواتین خودکش بمبار بھی شامل ہیں۔بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کامیابی سے جاری ہے. سیکیورٹی فورسز نے کارروائیاں تیز کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کردیا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں مستونگ کےعلاقہ کھڈ کوچہ میں بروقت کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد وں کو جہنم واصل کر دیا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی سیکیورٹی فورسز کی اس کارروائی کے دوران متعدد دہشت گردوں کو گرفتار بھی کر لیا گیا. گرفتار دہشت گردوں میں سہولت کار سمیت مرد اور خواتین خودکش بمبار بھی شامل ہیں۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی مؤثر کاروائی میں دہشت گردوں کی متعدد کمین گاہیں مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں. کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کر لیا گیا۔آپریشن کے دوران علاقے میں سرچ اور کلیئرنس کارروائیاں جاری ہیں، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مکمل نگرانی برقرار ہے. حالیہ دنوں میں مستونگ کےعلاقہ کھڈ کوچہ میں دہشتگردوں کی مذموم کاروائیوں کے بعد سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن تیز کر دیے گئے ہیں۔