سٹی42: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی  نے جسٹس (ر) مہتا کوہلی کی بطور چیئر مین پبلک سروس کمیشن تقرری پر  اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہےکہ پورے بلوچستان میں ایک بھی شخص نہیں جو  جسٹس (ر) مہتا کوہلی کے کردار اور ایمانداری پر انگلی اٹھا سکے۔

بانی پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس کے ٹرائل کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر

وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنی ٹویٹ میں لکھا ہے کہ بلوچستان میں میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین کے عہدے پر جسٹس (ریٹائرڈ) مہتا کوہلی کی تقرری انتہائی اہم قدم ہے،پورے بلوچستان میں ایک بھی شخص نہیں جو  جسٹس (ر) مہتا کوہلی کے کردار اور ایمانداری پر انگلی اٹھا سکے۔ سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہم صرف دعویٰ نہیں کر رہے بلکہ گڈ گورننس کے قیام اور میرٹ کے نفاذ کے لیے عملی اقدامات بھی کر رہے ہیں۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کاروائیاں، 25 من مردہ مرغیاں، ساڑھے 3 من گائے و بکرے کا گوشت تلف

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: وزیر اعلی بلوچستان چیئر مین پبلک سروس کمیشن سرفراز بگٹی

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری