Express News:
2026-06-02@23:24:35 GMT

ماؤں کو جج نہ کیجئے

اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT

’’بہن تنویر کے گھر کیا جانا ان کے گھر تو ہر وقت بکھیرا ہی ملے گا۔ کہیں کارپٹ پر دودھ گرا ہے، تو کہیں صوفے پر کھلونے پڑے ہیں، کہیں گندے برتن پڑے منہ چڑا رہے ہیں۔ ان کے گھر جاکر تو بندہ پریشان ہی ہوجاتا ہے کہ کہاں مہمان بیٹھے اور کہاں رکے۔‘‘

جن گھروں سے آپ کو ایسی صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے وہاں عموما اوپر تلے کے چھوٹے بچے ہوتے ہیں اور مائیں روزمرہ کی صورتحال کے باعث گھن چکر بنی رہتی ہیں۔ کبھی ایک بچے کو دودھ کا فیڈر بنا کے دینا تو کبھی دوسرے کو ٹوائلٹ ٹریننگ دینی ہے، کبھی کھانا پکانا ہے تو کبھی ساس سسر کی خدمت کرنی ہے۔ یہاں بات جوائنٹ فیملی کی ہو رہی ہے لیکن دادی اماں کسی حد تک بچوں کو سنھبال لیتی ہیں۔
 
اصل مسئلہ تب شروع ہوتا ہے جب آپ الگ رہ رہے ہوں اور چھوٹے بچوں کا ساتھ ہو۔ اکثر لوگ ظاہری چیزوں پر ہی رائے قائم کرلیتے ہیں۔ کبھی یہ کہ بچہ چیزیں بکھیر رہا ہے، کبھی ماں نے غلط عادت ڈال دی ہے یا یہ خوامخواہ چڑچڑا ہو کر بدتمیز ہورہا ہے۔ اس سب کی ذمے داری باآسانی ماں پر ڈال دی جاتی ہے۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے، کیونکہ کوئی بھی شخص ماں کی روزمرہ کی ذمے داری، جدوجہد، تھکن اور اس کی نیت کو پوری طرح سمجھ نہیں سکتا۔
 
ماں بننا کوئی آسان کام نہیں ہوتا، یہ بہت بڑی ذمے داری کا نام ہے۔ جب بچے بہت چھوٹے ہوں تو ماں کی زندگی مکمل طور پر بدل جاتی ہے۔ اس کی نیند پوری نہیں ہوتی کیونکہ چھوٹا بچہ بار بار جاگتا اور مختلف اوقات میں سوتا ہے۔ ایسے میں ماں کی اپنی ضروریات پیچھے رہ جاتی ہیں۔ کیونکہ اس کی سوچوں کا محور اور توجہ کا مرکز صرف اور صرف اس کا بچہ ہوتا ہے۔ اس لیے اکثر خواتین سرے سے تیار ہی نہیں ہوتیں، ان کا ’می ٹائم‘ بچوں کی دیکھ بھال میں ہی گزر جاتا ہے۔

وہ ہر لمحے بچے کی صحت، حفاظت اور مستقبل کے بارے میں ہی سوچتی رہ جاتی ہے۔ بہت سے گھر ایسے ہوتے ہیں جہاں ہاتھ بٹانے والا کوئی نہیں ہوتا، کوئی ہاؤس ہیلپ نہیں ہوتی۔ جہاں بچے ہوتے ہیں وہاں بے ترتیبی تو ہوتی ہے بچے کھلونے بکھیرتے ہیں یہی بکھرے ہوئے کھلونے زندگی کی علامت ہیں کہ یہاں کوئی موجود ہے۔

دوسری طرف کتنے ہی جوڑے ایسے ہیں جو اولاد کی نعمت سے محروم ہیں جو یہ سب پھیلاوا دیکھنا چاہتے ہیں لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور ہے۔ ان کے آنگن معصوم بچوں کی شرارتوں اور قلقاریوں سے محروم ہیں۔

ہم اکثر یہ فراموش کردیتے ہیں کہ ہر ماں کے پاس ایک جیسی سپورٹ، سہولیات اور وسائل نہیں ہوتے۔ کوئی معاشی دباؤ کا شکار ہے تو کوئی پوسٹ پارٹم (زچگی کے بعد ہونے والا ڈپریشن) کا سامنا کررہی ہے۔ ایسے حالات میں اس ماں کو جج کرنا اور کسی کے رویے کا ججمینٹل ہونا مزید مسائل کو جنم دیتا ہے۔

ماں بننے کا عمل مسلسل سیکھنے کا عمل ہے۔ اگر بات بات پر ماں کی روک ٹوک کی جائے گی تو اس میں اعتماد ختم ہو جائے گا اور وہ خود کو مجرم سمجھنے لگے گی۔
 
اگر ہم ماں کی ہر غلطی پر انگلی اٹھائیں گے تو وہ ایک انجانے خوف کا شکار ہوجائے گی، جبکہ اعتماد سے کی ہوئی باتیں اس کا دل بڑا کرنے کا سبب بن جائیں گی۔ جج کرنے کے بجائے اگر ہم ماؤں کی نفسیات کو سمجھیں، ان کے مسائل سنیں تو بہت حد تک وہ مثبت محسوس کریں گی۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ماؤں کو بھی یہ سوچنا چاہیے کہ صفائی نصف ایمان ہے جب تک آپ چھوٹے بچوں کو اپنی چیزیں سنبھالنا نہیں سکھائیں گی تو وہ بڑے ہو کر بھی کام چور بن جائیں گے۔ ماؤں کو چاہیے کہ تھوڑے بڑے بچوں کو سمجھائیں کہ وہ چھوٹے بہن بھائیوں کے کھلونے سنبھالنے میں مدد کریں اور کچن میں بھی والدہ کا ہاتھ بٹائیں۔ اس میں لڑکا اورلڑکی کی کوئی تخصیص نہیں ہونی چاہیے۔

آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ ہم ماؤں کےلیے مثبت اور محفوظ ماحول بنائیں، انھیں جج نہ کریں تاکہ وہ اپنے سوالات پوچھ سکیں، اپنے تجربات شئیر کرسکیں اور وقت آنے پر مدد مانگ سکیں۔ ان پر تنقید کے بجائے ان کا حوصلہ بنیں اور ان کی زندگی کو آسان بنائیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ماں کی

پڑھیں:

تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائل

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔

صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔

وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • ناتمام (آخری قسط)
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟