Express News:
2026-07-24@01:49:08 GMT

ماؤں کو جج نہ کیجئے

اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT

’’بہن تنویر کے گھر کیا جانا ان کے گھر تو ہر وقت بکھیرا ہی ملے گا۔ کہیں کارپٹ پر دودھ گرا ہے، تو کہیں صوفے پر کھلونے پڑے ہیں، کہیں گندے برتن پڑے منہ چڑا رہے ہیں۔ ان کے گھر جاکر تو بندہ پریشان ہی ہوجاتا ہے کہ کہاں مہمان بیٹھے اور کہاں رکے۔‘‘

جن گھروں سے آپ کو ایسی صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے وہاں عموما اوپر تلے کے چھوٹے بچے ہوتے ہیں اور مائیں روزمرہ کی صورتحال کے باعث گھن چکر بنی رہتی ہیں۔ کبھی ایک بچے کو دودھ کا فیڈر بنا کے دینا تو کبھی دوسرے کو ٹوائلٹ ٹریننگ دینی ہے، کبھی کھانا پکانا ہے تو کبھی ساس سسر کی خدمت کرنی ہے۔ یہاں بات جوائنٹ فیملی کی ہو رہی ہے لیکن دادی اماں کسی حد تک بچوں کو سنھبال لیتی ہیں۔
 
اصل مسئلہ تب شروع ہوتا ہے جب آپ الگ رہ رہے ہوں اور چھوٹے بچوں کا ساتھ ہو۔ اکثر لوگ ظاہری چیزوں پر ہی رائے قائم کرلیتے ہیں۔ کبھی یہ کہ بچہ چیزیں بکھیر رہا ہے، کبھی ماں نے غلط عادت ڈال دی ہے یا یہ خوامخواہ چڑچڑا ہو کر بدتمیز ہورہا ہے۔ اس سب کی ذمے داری باآسانی ماں پر ڈال دی جاتی ہے۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے، کیونکہ کوئی بھی شخص ماں کی روزمرہ کی ذمے داری، جدوجہد، تھکن اور اس کی نیت کو پوری طرح سمجھ نہیں سکتا۔
 
ماں بننا کوئی آسان کام نہیں ہوتا، یہ بہت بڑی ذمے داری کا نام ہے۔ جب بچے بہت چھوٹے ہوں تو ماں کی زندگی مکمل طور پر بدل جاتی ہے۔ اس کی نیند پوری نہیں ہوتی کیونکہ چھوٹا بچہ بار بار جاگتا اور مختلف اوقات میں سوتا ہے۔ ایسے میں ماں کی اپنی ضروریات پیچھے رہ جاتی ہیں۔ کیونکہ اس کی سوچوں کا محور اور توجہ کا مرکز صرف اور صرف اس کا بچہ ہوتا ہے۔ اس لیے اکثر خواتین سرے سے تیار ہی نہیں ہوتیں، ان کا ’می ٹائم‘ بچوں کی دیکھ بھال میں ہی گزر جاتا ہے۔

وہ ہر لمحے بچے کی صحت، حفاظت اور مستقبل کے بارے میں ہی سوچتی رہ جاتی ہے۔ بہت سے گھر ایسے ہوتے ہیں جہاں ہاتھ بٹانے والا کوئی نہیں ہوتا، کوئی ہاؤس ہیلپ نہیں ہوتی۔ جہاں بچے ہوتے ہیں وہاں بے ترتیبی تو ہوتی ہے بچے کھلونے بکھیرتے ہیں یہی بکھرے ہوئے کھلونے زندگی کی علامت ہیں کہ یہاں کوئی موجود ہے۔

دوسری طرف کتنے ہی جوڑے ایسے ہیں جو اولاد کی نعمت سے محروم ہیں جو یہ سب پھیلاوا دیکھنا چاہتے ہیں لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور ہے۔ ان کے آنگن معصوم بچوں کی شرارتوں اور قلقاریوں سے محروم ہیں۔

ہم اکثر یہ فراموش کردیتے ہیں کہ ہر ماں کے پاس ایک جیسی سپورٹ، سہولیات اور وسائل نہیں ہوتے۔ کوئی معاشی دباؤ کا شکار ہے تو کوئی پوسٹ پارٹم (زچگی کے بعد ہونے والا ڈپریشن) کا سامنا کررہی ہے۔ ایسے حالات میں اس ماں کو جج کرنا اور کسی کے رویے کا ججمینٹل ہونا مزید مسائل کو جنم دیتا ہے۔

ماں بننے کا عمل مسلسل سیکھنے کا عمل ہے۔ اگر بات بات پر ماں کی روک ٹوک کی جائے گی تو اس میں اعتماد ختم ہو جائے گا اور وہ خود کو مجرم سمجھنے لگے گی۔
 
اگر ہم ماں کی ہر غلطی پر انگلی اٹھائیں گے تو وہ ایک انجانے خوف کا شکار ہوجائے گی، جبکہ اعتماد سے کی ہوئی باتیں اس کا دل بڑا کرنے کا سبب بن جائیں گی۔ جج کرنے کے بجائے اگر ہم ماؤں کی نفسیات کو سمجھیں، ان کے مسائل سنیں تو بہت حد تک وہ مثبت محسوس کریں گی۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ماؤں کو بھی یہ سوچنا چاہیے کہ صفائی نصف ایمان ہے جب تک آپ چھوٹے بچوں کو اپنی چیزیں سنبھالنا نہیں سکھائیں گی تو وہ بڑے ہو کر بھی کام چور بن جائیں گے۔ ماؤں کو چاہیے کہ تھوڑے بڑے بچوں کو سمجھائیں کہ وہ چھوٹے بہن بھائیوں کے کھلونے سنبھالنے میں مدد کریں اور کچن میں بھی والدہ کا ہاتھ بٹائیں۔ اس میں لڑکا اورلڑکی کی کوئی تخصیص نہیں ہونی چاہیے۔

آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ ہم ماؤں کےلیے مثبت اور محفوظ ماحول بنائیں، انھیں جج نہ کریں تاکہ وہ اپنے سوالات پوچھ سکیں، اپنے تجربات شئیر کرسکیں اور وقت آنے پر مدد مانگ سکیں۔ ان پر تنقید کے بجائے ان کا حوصلہ بنیں اور ان کی زندگی کو آسان بنائیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ماں کی

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف