کانگو‘ کان منہدم ہونے سے ہلاکتیں 300 سے زائد متجاوز
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کنشاسا : افریقی ملک جمہوریہ کانگو میں گزشتہ دنوںکولٹن کی ایک کان منہدم ہوگئی تھی، جس میں 200 سے زائد افراد کی ہلاکتوں نے حکمرانوں کو ہلاکر رکھ دیا تھا ۔ رپورٹ کے مطابق تازہ ترین اطلاعات میںہلاکتوں کی مزید اطلاعات آئی ہیں جو 300 سے زائد بتائی جا رہی ہیں۔ واضح رہے کہ مذکورہ افسوسناک واقعہ جمہوریہ کانگو کے مشرقی حصے میں واقع روبایا کے علاقے میں پیش آیا تھا، جہاں کولٹن کی ایک آرٹی سینل کان اچانک منہدم ہوگئی تھی۔
اعلیٰ حکام کے مطابق حادثے میں اب تک 300 سے زائد افراد کی جانیں جا چکی ہیں جبکہ اب بھی 100 کے قریب افراد زخمی حالت میں مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ یاد رہے کہ ہلاک شدگان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جو کان کنی کے مقام پر موجود تھے۔
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ حادثہ ایک ایسی غیر قانونی کان میں پیش آیا، جہاں کولٹن کے وافر ذخائر پائے جاتے ہیں، جہاں ایک اہم دھاتی معدنیات ہے، جو اسمارٹ فونز اور دیگر برقی آلات کی تیاری میں استعمال ہوتی ہے۔یہ بات بھی علم میں رہے کہ روبایا کا علاقہ عالمی سطح پر اسمارٹ فون انڈسٹری کے لیے خام مال فراہم کرنے والے اہم مراکز میں شمار کیا جاتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔