پاکستان کے ہیومن اسپیس فلائٹ پروگرام میں اہم پیش رفت، دو امیدوار شارٹ لسٹ
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے ہفتے کے روز بتایا ہے کہ چین کے آسٹروناٹس سینٹر (ACC) نے پاکستان کے ہیومن اسپیس فلائٹ پروگرام کے لیے دو امیدوار شارٹ لسٹ کر لیے ہیں، جو پاکستان کے خلائی سفر کے خواب کی جانب ایک بڑی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ فروری 2025 میں پاکستان کی اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) اور چائنا مینڈ اسپیس ایجنسی (CMSA) کے درمیان ایک اہم تعاون معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت دو پاکستانی شہری چین میں خلاباز کی تربیت حاصل کریں گے، جن میں سے ایک کو چین کے زیرِ انتظام تیانگونگ اسپیس اسٹیشن پر مشن کا حصہ بننے کا موقع دیا جائے گا۔
آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان کے مطابق سپارکو نے امیدواروں کے انتخاب کے ثانوی مرحلے کی کامیاب تکمیل کے ساتھ ایک اور سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ ابتدائی اسکریننگ پاکستان میں کی گئی، جس کے بعد امیدواروں کو چین کے آسٹروناٹس سینٹر میں بین الاقوامی معیار کے مطابق طبی، نفسیاتی اور صلاحیتی ٹیسٹوں سے گزارا گیا۔
دو طرفہ معاہدے کے مطابق شارٹ لسٹ کیے گئے دونوں امیدوار چھ ماہ کے لیے چین میں ایڈوانسڈ آسٹروناٹ ٹریننگ حاصل کریں گے۔ اس تربیت کی تکمیل کے بعد ایک امیدوار کو اکتوبر یا نومبر 2026 میں تیانگونگ اسپیس اسٹیشن پر جانے والے مشن کے لیے منتخب کیا جائے گا۔
آئی ایس پی آر نے اس تعاون کو فروری 2025 میں طے پانے والے “آسٹروناٹ کوآپریشن ایگریمنٹ” کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت، وژن اور بھرپور سرپرستی کے باعث ممکن ہوا، جنہوں نے پاکستان کو انسان بردار خلائی مشن میں شامل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
بیان میں اس امر کو بھی نمایاں کیا گیا کہ چین نے پاکستان کو اپنے خلاباز پروگرام میں پہلا غیر ملکی شراکت دار منتخب کیا، جو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اعتماد اور قریبی تعلقات کا عکاس ہے۔
معاہدے پر دستخط کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ پاکستان، چین کے تعاون سے، پہلی مرتبہ اپنے خلاباز کو چین کے اسپیس اسٹیشن پر بھیجے گا۔ بعد ازاں چینی حکام نے بھی تصدیق کی تھی کہ دو پاکستانی خلاباز چین میں تربیت حاصل کریں گے، جن میں سے ایک کو مستقبل کے مشن میں شامل کیا جائے گا۔
چائنا مینڈ اسپیس ایجنسی کے ترجمان لن شی چیانگ کے مطابق منتخب پاکستانی خلاباز تیانگونگ اسٹیشن پر پاکستان کی جانب سے سائنسی تجربات انجام دے گا اور عملے کی معمول کی ذمہ داریاں بھی نبھائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی خلابازوں کا انتخاب بھی اسی تین مرحلوں پر مشتمل عمل کے تحت کیا جا رہا ہے، جو چینی خلابازوں کے لیے رائج ہے۔
واضح رہے کہ 2011 سے چین کو بین الاقوامی اسپیس اسٹیشن میں شرکت کی اجازت نہیں، جب امریکا نے ناسا کو چینی خلائی اداروں کے ساتھ تعاون سے روک دیا تھا۔ اس کے بعد چین نے اپنے خلائی پروگرام کو وسعت دیتے ہوئے پاکستان سمیت دیگر ممالک کے ساتھ شراکت داری کا آغاز کیا، جو اب عملی شکل اختیار کر رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسپیس اسٹیشن اسٹیشن پر کے مطابق چین کے کو چین کے لیے
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔