اٹلی نے ٹرمپ کی پیشکش مسترد کر دی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
اطالوی وزیر اعظم اور ٹرمپ کی اتحادی جورجیا میلونی نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ اس منصوبے میں شامل ہونے سے آئینی مسائل کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ یورپی ملک اٹلی نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قائم کردہ امن کونسل میں شرکت نہیں کرے گا۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق، اطالوی وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے فیصلے کی وجہ ملک کے آئین میں موجود ناقابل تسخیر رکاوٹوں کو قرار دیا۔ ٹرمپ نے جنوری میں ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم میں کونسل بنائی تھی اور اب تک 19 ممالک اس کے بانی چارٹر پر دستخط کر چکے ہیں لیکن اٹلی کا آئین ملک کو کسی غیر ملکی کی سربراہی میں تنظیم میں شمولیت سے منع کرتا ہے۔ اطالوی وزیر اعظم اور ٹرمپ کی اتحادی جورجیا میلونی نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ اس منصوبے میں شامل ہونے سے اآئینی مسائل کا سامنا ہے لیکن انہوں نے مشورہ دیا کہ ٹرمپ شاید اٹلی اور دیگر یورپی ممالک کی ضروریات کے مطابق اپنے فریم ورک پر نظر ثانی کر سکتے ہیں۔ تاہم، تاجانی نے اس امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم امن کونسل میں حصہ نہیں لے سکتے کیونکہ وہاں ایک آئینی حد ہے۔ یہ حد قانونی طور پر ناقابل تسخیر ہے۔ انہوں نے یہ ریمارکس میلان میں سرمائی اولمپکس کے دوران امریکیاا وزیر خارجہ مارکو روبیو اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کے ایک دن بعد کہے۔ فرانس اور برطانیہ سمیت امریکہ کے بعض اتحادیوں نے بھی اس منصوبے میں شامل ہونے پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ٹرمپ کی
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔