دہشت گرد کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں، معصوم اور بے گناہ انسانوں کو نشانہ بنانا بزدلانہ فعل ہے، ملی یکجہتی کونسل
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملی یکجہتی کونسل کے رہنمائوں کا کہنا تھا کہ نادیدہ قوتیں ایک بار پھر ملک وقوم کو ایک بار پھر فرقہ واریت کی آگ میں دھکیلنا چاہتی ہے لیکن وہ اپنے مذموم عزائم میں ناکام ہوں گی اور ان کے ناپاک عزائم خاک میں مل جائیں گے، پوری پاکستانی قوم پاک فوج اور سیکیورٹی اداروں کی شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مذہبی تنظیموں کے رہنماوں ملی یکجہتی کونسل جنوبی پنجاب کے جنرل سیکرٹری محمد ایوب مغل، جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی ضلع ملتان خواجہ عاصم ریاض، شیعہ علما کونسل جنوبی پنجاب کے ترجمان بشارت عباس قریشی، متحدہ مسلم موومنٹ کے ڈاکٹر محمد اکمل مدنی، قومی تاجر اتحاد کے سلطان محمود ملک، متحدہ جمعیت اہل حدیث کے رہنما مولانا خالد فاروقی، مجلس وحدت مسلمین کے سلیم عباس صدیقی، جمعیت علما پاکستان کے حافظ محمد ظفر قریشی، جے یو ائی کے مولانا عطا اللہ سمیت مجاہد حسین، اقبال جاوید نے پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد کے علاقہ ترلائی میں جمعتہ المبارک کے دوران مسجد و امام بارگاہ خدیجة الکبری میں خودکش دھماکہ مذہبی انتشار پھیلانے کی گھناونی سازش اور امن و امان کے قیام کی راہ میں بڑی رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش ہے، جس میں بیسیوں نمازیوں کی شہادت اور درجنوں زخمی ہو گئے، دہشت گرد کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ہیں معصوم اور بے گناہ انسانوں کو نشانہ بنانا بزدلانہ فعل ہے، ہم شہدا اور زخمیوں کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور دکھ کی اس گھڑی میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
رہنمائوں نے کہا کہ حکومت شہدا کے لواحقین کی نہ صرف داد رسی کرے بلکہ زخمیوں کے علاج معالجے کے لیے بھی تمام تر سہولتیں دی جائیں، شہدا کے لواحقین کو فی کس ایک کروڑ روپے، زخمیوں کو فکس 50 لاکھ روپے اور نوکریاں دی جائیں اور تین روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہیں، نادیدہ قوتیں ایک بار پھر ملک وقوم کو ایک بار پھر فرقہ واریت کی آگ میں دھکیلنا چاہتی ہے لیکن وہ اپنے مذموم عزائم میں ناکام ہوں گی اور ان کے ناپاک عزائم خاک میں مل جائیں گے، پوری پاکستانی قوم پاک فوج اور سیکیورٹی اداروں کی شانہ بشانہ کھڑی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ سانحہ ترلائی میں ملوث دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یقینا پاک فوج سکیورٹی اداروں اور شہریوں کی قیام امن کے لیے بیش بہا قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں لیکن اسلام آباد جیسے دارالخلافہ میں اتنا بڑا سانحہ سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے، شرپسند عناصر وطن عزیز پاکستان کے امن و امان کی فضا کو پارہ پارہ کرنا چاہتے ہیں لیکن ملتان سمیت ملک بھر کی مذہبی جماعتیں متحد ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایک بار پھر
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔