ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملی یکجہتی کونسل کے رہنمائوں کا کہنا تھا کہ نادیدہ قوتیں ایک بار پھر ملک وقوم کو ایک بار پھر فرقہ واریت کی آگ میں دھکیلنا چاہتی ہے لیکن وہ اپنے مذموم عزائم میں ناکام ہوں گی اور ان کے ناپاک عزائم خاک میں مل جائیں گے، پوری پاکستانی قوم پاک فوج اور سیکیورٹی اداروں کی شانہ بشانہ کھڑی ہے۔  اسلام ٹائمز۔ مذہبی تنظیموں کے رہنماوں ملی یکجہتی کونسل جنوبی پنجاب کے جنرل سیکرٹری محمد ایوب مغل، جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی ضلع ملتان خواجہ عاصم ریاض، شیعہ علما کونسل جنوبی پنجاب کے ترجمان بشارت عباس قریشی، متحدہ مسلم موومنٹ کے ڈاکٹر محمد اکمل مدنی، قومی تاجر اتحاد کے سلطان محمود ملک، متحدہ جمعیت اہل حدیث کے رہنما مولانا خالد فاروقی، مجلس وحدت مسلمین کے سلیم عباس صدیقی، جمعیت علما پاکستان کے حافظ محمد ظفر قریشی، جے یو ائی کے مولانا عطا اللہ سمیت مجاہد حسین، اقبال جاوید نے پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد کے علاقہ ترلائی میں جمعتہ المبارک کے دوران مسجد و امام بارگاہ خدیجة الکبری میں خودکش دھماکہ مذہبی انتشار پھیلانے کی گھناونی سازش اور امن و امان کے قیام کی راہ میں بڑی رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش ہے، جس میں بیسیوں نمازیوں کی شہادت اور درجنوں زخمی ہو گئے، دہشت گرد کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ہیں معصوم اور بے گناہ انسانوں کو نشانہ بنانا بزدلانہ فعل ہے، ہم شہدا اور زخمیوں کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور دکھ کی اس گھڑی میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

رہنمائوں نے کہا کہ حکومت شہدا کے لواحقین کی نہ صرف داد رسی کرے بلکہ زخمیوں کے علاج معالجے کے لیے بھی تمام تر سہولتیں دی جائیں، شہدا کے لواحقین کو فی کس ایک کروڑ روپے، زخمیوں کو فکس 50 لاکھ روپے اور نوکریاں دی جائیں اور تین روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہیں، نادیدہ قوتیں ایک بار پھر ملک وقوم کو ایک بار پھر فرقہ واریت کی آگ میں دھکیلنا چاہتی ہے لیکن وہ اپنے مذموم عزائم میں ناکام ہوں گی اور ان کے ناپاک عزائم خاک میں مل جائیں گے، پوری پاکستانی قوم پاک فوج اور سیکیورٹی اداروں کی شانہ بشانہ کھڑی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ سانحہ ترلائی میں ملوث دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یقینا پاک فوج سکیورٹی اداروں اور شہریوں کی قیام امن کے لیے بیش بہا قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں لیکن اسلام آباد جیسے دارالخلافہ میں اتنا بڑا سانحہ سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے، شرپسند عناصر وطن عزیز پاکستان کے امن و امان کی فضا کو پارہ پارہ کرنا چاہتے ہیں لیکن ملتان سمیت ملک بھر کی مذہبی جماعتیں متحد ہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایک بار پھر

پڑھیں:

نتیجہ خیز آپریشن شعبان!

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟

پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔

 بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران