کراچی پریس کلب میں کتاب ’’ایف ایم ریڈیو،ریاست اور ثقافتی تغیر‘‘ کی تقریبِ رونمائی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: کراچی پریس کلب کی جانب سے ڈاکٹر سعید مسعود عثمانی عثمانی کی کتاب “ایف ایم ریڈیو، ریاست اور ثقافتی تغیر” کی تقریبِ رونمائی منعقد کی گئی۔ تقریب میں سینئر صحافی/استاد ڈاکٹر توصیف احمد خان، ڈاکٹر عرفان عزیز، بدر سومرو، ڈاکٹر جعفر احمد، منزہ صدیقی اور مصنف ڈاکٹر سعید عثمانی نے خطاب کیا، جبکہ تقریب کی صدارت ڈاکٹر محمود لئیق نے کی۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سینئر صحافی محمد منصف نے کیا۔ تقریب کی نظامت ترجمان جامعہ این ای ڈی فروا حسن نے کی، اس موقع پر انہوں نے کتاب سے متعلق چند اہم نکات کو اُجاگر کیا اور مقررین سے بروقت سوالات بھی کیے۔ اس موقع پر ڈاکٹر بدر سومرو کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھاکہ ڈاکٹر سعید عثمانی کا اپنی زندگی کے تجربات کو کتابی صورت میں محفوظ کرنا نہایت خوش آئند ہے۔
چیئرمین شعبہ ابلاغیات ڈاکٹر عرفان عزیز کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھاکہ جب وہ ڈاکٹر سعید عثمانی کو دیکھتے ہیں تو انہیں یہ سبق ملتا ہے کہ عمر چاہے جو بھی ہو، پڑھنا نہیں چھوڑنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس تحقیقی مقالے کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے انٹرویوز بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ ریڈیو ہماری زندگی میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس تحقیق میں سماجی مسائل کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔
ڈیجیٹل انفلونسر اور ایگزیکٹو پروڈیوسر جیو منزہ صدیقی کا کہنا تھا کہ ریڈیو زبان سیکھنے کا ذریعہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف ایم ریڈیو کے دور میں لوگوں کا اندازِ فکر بہتر تھا، تاہم اب الفاظ کے چناؤ پر خاص توجہ دینے کی ضروری ہے۔ایف ایم ریڈیو، دور دراز تک معلومات پہنچانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ڈاکٹر توصیف احمد خان نے کہنا تھاکہ جب ان کی ڈاکٹر سعید عثمانی سے پہلی ملاقات ہوئی تو وہ انہیں نوجوانوں سے زیادہ نوجوان نظر آئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ریڈیو کے ذریعے بعض اوقات پروپیگنڈہ وار کا کام لیا گیا اور ایسا بھی ہوا کہ ہاری ہوئی جنگوں کو جیتی ہوئی بنا کر پیش کیا گیا۔
ان کہنا تھاکہ اس کتاب میں ریڈیو کی تاریخ کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، جس میں پاکستان اور یورپی ممالک کے ریڈیو کا جائزہ بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کو تحقیق کے لیے سہولتیں میسر نہیں ہوتیں اور یونیورسٹیوں میں ہونے والی 90 فیصد تحقیقی مقالے شائع نہیں ہو پاتے۔ جب تک تحقیق پر عوامی ردِعمل نہیں آتا، وہ مکمل طور پر کارآمد نہیں سمجھی جاسکتی۔
اس موقع پر ڈاکٹر جعفر احمد کا کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کتاب پڑھتے ہوئے انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے وہ خود سے گفتگو کر رہے ہوں۔ اس کتاب کے مطالعے سے ان کے علم میں اضافہ ہوا اور یہ ایک معیاری تحقیقی کتاب ہے۔ کتاب کی بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ معلومات کا خزانہ ہے اور پی ایچ ڈی کے مقالے پرائمری سورس پر ہونی چاہیے۔
کتاب سے متعلق پیغام دیتے ہوۓ معروف صحافی مظہر عباس کا کہنا تھاکہ اس کتاب کو ناصرف اردو بلکہ دیگر زبانوں میں بھی شایع کیا جانا چاہیے جب طالب علموں اور میڈیا ورکرز کو اس کا مطالعہ لازمی کرنا چاہیے۔
کتاب کے مصنف ڈاکٹر سعید عثمانی نے ان تمام افراد کے شکریہ ادا کیا جنہوں نے پی ایچ ڈی مقالے اور کتاب کی تکمیل میں تعاون کیا۔ ایف ایم ریڈیو ختم نہیں ہوا، بلکہ آج بھی موبائل فون میں ریڈیو موجود ہے۔ ریڈیو تنہائی کا ایک اچھا ساتھی ہے اور کام کے دوران بھی اس کے ذریعے معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
تقریب کے اختتام پر صدرِ محفل ڈاکٹر محمود لئیق کا مخصوص خوش کُن انداز میں حاضرین سے خطاب کرتے ہوۓ کہنا تھا کہ اس طرح کے تحقیقی مقالوں کو کتابی شکل دینا ہمارے معاشرے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ ڈاکٹر سعید عثمانی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے بجلی نہ ہونے کے دور سے لے کر آج کے اے آئی کے دور تک صحافت میں بھرپور تجربہ حاصل کیا۔
انہوں نے مصنف کے کام کو سراہتے ہوئے کہنا تھا کہ تحقیق کو کتابی صورت میں پیش کرنا، نوجوانوں اور معاشرے کے لیے خوش آئند ہے۔ کتاب کی رونمائی میں کراچی پریس کلب کی جانب سے گورننگ باڈی کی ممبر شیما صدیقی، رشین ہاؤس کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر فریحہ عاقب سمیت بڑی تعداد میں صحافیوں اور ادیبوں نے شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر سعید عثمانی ہوئے کہنا تھا کہنا تھا کہ کا کہنا تھا کہنا تھاکہ کے دور
پڑھیں:
لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
—فائل فوٹوپنجاب کے محکمۂ قانون نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی۔
ذرائع کے مطابق محکمۂ خزانہ نے 12جون کو بجٹ پیش کرنےکی تجویز دی ہے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا کہنا ہے کہ جمعے کو سرکاری چھٹی کی وجہ سے بجٹ پیش نہ کیا جائے اور نہ اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے۔
پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کیلئے نیا قانون تیار کر لیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں کریک ڈاؤن تیز کرنے اور سخت سزائیں دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
محکمۂ قانون کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے معمول کے اجلاس میں زیرِ التوا بل بھی منظور ہو جائیں گے اور 3 بلز منظور کرانے ہیں اس لیے معمول کا اجلاس طلب کیا جائے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجٹ کے لیے مخصوص اجلاس میں بلز منظور نہیں ہوسکتے۔