کراچی میں واٹرٹینکر کی ٹکر سے نوجوان موٹرسائیکل سوار جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
شہر قائد کے علاقے اورنگی ٹاؤن گلشن بہار پاکستان بازار کٹ کے قریب واٹر ٹینکر کی ٹکر سے نوجوان موٹرسائیکل سوار جاں بحق ہوگیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان بازار کٹ کے قریب تیز رفتار واٹرٹینکر نے موٹرسائیکل سوار کو ٹکر ماری جس کے نتیجے میں 28 سالہ ثاقب نامی نوجوان موقع پر جاں بحق ہوا۔
موقع پر موجود افراد نے ایمبولینس کے ڈرائیور کو بتایا کہ حادثہ واٹر ٹینکر کی ٹکر سے پیش آیا ہے جس کا ڈرائیور ٹینکر سمیت فرار ہوگیا تاہم پولیس واقعے کی مزید معلومات حاصل کر رہی ہے۔
دریں اثنا پنجاب چورنگی انڈر پاس میں کار ٹریلر سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں کار کو شدید نقصان پہنچا تاہم حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
چھیپا حکام کے مطابق ٹریلر انڈر پاس میں ایک جانب کھڑا تھا کہ اس دوران عقب سے آنے والی کار ٹریلر سے ٹکرا گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔