گل پلازہ حادثہ یا انتظامی ناکامی
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
اردو میں گل کے بنیادی معنی پھول اور گلاب کے ہیں ۔فارسی زبان سے ماخوذ یہ لفظ شاعری اور روزمرہ میں خوبصورتی محبوب یا پھول کی کلی کے لیے استعمال ہوتا ہے ،اس کے علاوہ گل کا ایک مطلب دیے کی بتی کا جلا ہوا حصہ، بجھی ہوئی بتی بھی ہوتا ہے۔
17 جنوری 2026 کی رات گل پلازہ میں لگنے والی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے پلازہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ،جب سے یہ حادثہ ہوا ہے تقریباً معاشرے کے ہر طبقے نے اپنے اپنے طور پر اس پر تجزیہ کیا ہے، بدقسمتی سے سیاسی پارٹیوں کو بھی یہ حادثہ پوائنٹ اسکورنگ کے لیے مل گیا تمام سیاسی پارٹیوں نے اس حادثے پر خوب سیاست چمکائی اور ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔
گل پلازہ حادثے نے تمام سیاسی پارٹیوں کو ایک نیا ٹاپک ایشو دے دیا، بدقسمتی سے قیام پاکستان سے لے کر آج تک کسی بھی سیاسی جماعت نے عوام کو کچھ بھی ڈلیور نہیں کیا۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے ،ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس موقع پر تمام سیاسی پارٹیاں اپنی سیاست ایک طرف رکھ کر اس مسئلے اور حادثے پر کچھ عملی مظاہرہ کرتے مگر بدقسمتی سے یہ حادثہ بھی ایک نمائشی حادثہ بن گیا اور تمام سیاسی پارٹیوں نے خوب اپنی سیاست چمکائی، آگ نے گل پلازہ میں موجود تمام گل نما انسانوں کوجلا کر راکھ بنا دیا ۔
کسے کیا خبر تھی کہ گل پلازہ اپنے نام کی نسبت سے پھول اور بتی کا جلا ہوا حصہ بجھی ہوئی بتی بن جائے گا ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انتظامیہ فوری ایکشن میں آ کر اس حادثے کی نوعیت و شدت میں عملی کمی لاتی مگر اس حادثے میں انتظامی و سیاسی کوتاہیاں صاف نظر آرہی تھیں۔
عوام الناس یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اس سارے معاملے میں ان کا کیا قصور ہے ؟کیا عوام الناس کا یہ قصور ہے کہ انھوں نے ان سیاسی پارٹیوں اور سیاست دانوں کو منتخب کر کے اپنے اوپر اس لیے مسلط کیا ہے کہ یہ تمام عوام کا قتل عام کریں۔
آج ایک عام آدمی سرکار سے یہ سوال پوچھتا ہے کہ اسے کس گناہ کی سزا دی جا رہی ہے۔ آج عام آدمی کا کیا قصور ہے کہ اسے اس کی بنیادی حقوق نہیں مل رہی، اسے ناکامی نہ کہا جائے سرکار کی تو کیا کہا جائے ۔مقتدر قوتوں اور اداروں کو بھی اب سوچنا ہوگا کہ آخر یہ سلسلہ کب تک چلے گا۔ کیا آج پاکستان میں عام آدمی کی کوئی عزت نہیں ؟کیا پاکستان میں عوام الناس کو جینے کا کوئی حق نہیں؟
چلیں ! آج سچ لکھتے ہیں ،سچ بولتے ہیں، تمام سیاسی جماعتیں اپنے اپنے ضمیر میں جھانک کر بتائیں انھوں نے آج تک عوام کو کیا ڈلیور کیا، کیا روٹی کپڑا مکان نعرہ لگانے والوں نے ایک آدمی کا روٹی کپڑا مکان کا وعدہ پورا کیا ۔
کیا ماضی میں قرض اتارو ملک سنوارو کا نعرہ لگانے والوں نے اس پر عملی عمل کیا۔ ووٹ کو عزت دو گا نعرہ لگانے والو نے کبھی ووٹ کو عزت دی، ہم عوام آج کس بات کے منتظر ہیں۔
دیکھیں بنیادی طور پر عوام کو اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنی پڑے گی جب تک اندرونی تبدیلی پیدا نہیں ہوگی تب تک خارجی یا بیرونی تبدیلی پیدا نہیں ہوگی۔ انقلاب اور معاشی آزادی کے لیے یہ ضروری ہے کہ عوام اپنے اندر سے اپنے نمائندوں کو منتخب کر کے ایوان اقتدار میں لائیں۔
سانحہ گل پلازہ میں انکوائری کمیشن جوڈیشری کمیشن کی باتیں ہو رہی ہیں اس حادثے میں کتنے گھرانوں کے چراغ بجے اور کتنے لوگ معاشی بدحالی کا شکار ہوئے اس پر کوئی کمیشن بنائے بلکہ مناسب یہ ہوگا کہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک جو معاشی قتل عام ہمارا جاری ہے اس پر بھی کوئی جوڈیشل کمیشن بننا چاہیے۔
گل پلازہ کے حادثے میں اتنی لاپرواہی کا مظاہرہ کبھی نہیں دیکھا، اب اس میں جو جو قصور وار ہیں کیا انھیں واقعی سزائیں ملیں گی یا یہ بھی روایتی کمیشنوں کی طرح ماضی کا حصہ بن جائے گا ۔
کتنا ہی اچھا ہو کہ پاکستان کی معاشی آزادی کی خاطر بھی کوئی کمیشن بنایا جائے جو اس بات کا جائزہ لیں کہ کس طرح پاکستان میں تحریک معاشی آزادی کی بنیاد رکھی جائے یہ گل پلازہ کا یہ حادثہ قومی ضمیر کو جھنجوڑ رہا ہے ،آگ میں جلتے ہوئے گلوں کو سب نے دیکھا پیٹ کی اگ کو کون بجھائے گا۔
کیا کبھی کسی نے یہ سوچا کہ عوام کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے دو وقت کی روٹی کھانا بھی بیحد دشوار ہے حکمران صرف روایتی اور نمائشی منصوبوں میں عوام کو مشغول رکھتے ہیں اور عوام بھی ٹرک کی بتی کی طرح ان کے پیچھے پیچھے چلتے ہیں۔
عام آدمی کو اپنی سوچ میں تبدیلی لانی ہوگی اور اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے جائزہ لے کرپشن جو ہے اس کا تعلق خالی حکمران طبقے تک محدود نہیں ہے ،پانی میں دودھ اوردودھ میں پانی ملاوٹ زدہ چیزیں ایکسپائری چیزیں کم ناپ تول میں کمی بیشی گوشت میں حرام گوشت کھلانا ہر کوئی اپنے لیول پہ کرپشن کر رہا ہے۔
بحیثیت قوم ہم کرپٹ ہو چکے ہیں معذرت کے ساتھ۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے ہمیں اس سوچ میں تبدیلی لانی پڑے گی تب جا کے حقیقی معنوں میں معاشرے میں تبدیلی آئے گی موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق اہل دانش کی بھی یہ ذمے داری ہے کہ وہ عوام میں شعوری تحریک کا آغاز کریں جو آگے جا کر معاشی آزادی کی تحریک میں تبدیل ہو جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سیاسی پارٹیوں تمام سیاسی یہ حادثہ گل پلازہ عوام کو کے لیے
پڑھیں:
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کی بھرپور حمایت سے بلوچستان میں دیرپا امن کے قیام کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں اپنے منطقی انجام تک جاری رہیں گی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا، جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے قومی اتحاد، استحکام اور ثابت قدمی کی اہمیت پر زور دیا۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا فخر ہے اور یہ صوبہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان کے محب وطن، باصلاحیت، باہمت اور ثابت قدم عوام ہی اس صوبے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا مقصد صوبے کی سماجی اور معاشی ترقی کو یقینی بنانا، عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا اور خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے تعاون سے بلوچستان میں امن و امان کے قیام کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کی یہی مشترکہ کاوشیں صوبے میں پائیدار امن کی بنیاد بنیں گی۔
انہوں نے اس موقع پر کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشنز پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گے اور یہ کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک بلا تعطل جاری رہیں گی۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج عوام کے اتحاد، عزم اور ثابت قدمی کی بدولت ہر قسم کے مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی اور ملکی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی رہیں گی۔