Express News:
2026-07-24@05:13:48 GMT

کرپشن: گمان اور حقیقت کی خلیج

اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT

ہمارے ہاں کرپشن کے بارے میں گفتگو عموماً ایک طے شدہ نتیجے کے ساتھ شروع اور وہیں ختم بھی ہو جاتی ہے، یعنی یہ کہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے، کرپشن کے بغیر کوئی کام ممکن نہیں، کرپشن میں ہم عالم میں اعلیٰ ترین مقام رکھتے ہیں جس کی گواہی کرپشن پرسیپشن انڈکس کی سالانہ رپورٹ بھی دیتی ہے۔

ایسی عالمی درجہ بندیاں، سیاسی بیانات اور میڈیا سرخیاں مل ملا کر اس طے شدہ نتیجے کو پتھر کی لکیر بنا دیتے ہیں کہ گویا تمام حکومتی ادارے اور نظام مکمل طور پر بدعنوانی کی گرفت میں ہے۔

اس طے شدہ نتیجے سے اختلاف کی گنجائش ہے لیکن چند معروف عالمی رپورٹوں اور سیاسی دشنام طرازیوں کے تلخ ماحول میں متبادل حقیقت کا بیان اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

تاہم ایک معروف عالمی ریسرچ ادارے IPSOS نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے اشتراک سے گمان یعنی پرسیپشن کی بجائے عملی طور پر کرپشن سے واسطہ پڑنے کو بنیاد بنا کر ایک متبادل اور مقامی انڈکس ترتیب دینے کی کامیاب کوشش کی ہے۔

رواں ہفتے شائع ہونے والی Index of Transparency & Accountability in Pakistan (ITAP) رپورٹ اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد اور غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ بدعنوانی کو محض ایک عمومی الزام یا گمان کے طور پر نہیں بلکہ شہریوں کے عملی تجربے کو بنیاد بنا کر نتائج اخذ کرنے کی سنجیدہ کوشش ہے۔

اس رپورٹ کے لیے کیے گئے سروے کے مختلف مراحل اور پیشہ ورانہ طریقہ کار پر استوار نتائج متبادل حقیقت بیان کرتے ہیں۔ دسمبر 2025 سے جنوری 2026 کے دوران ملک کے 82 اضلاع میں، شہری اور دیہی آبادی کی نمائندگی کے ساتھ، چھ ہزار سے زائد بالغ افراد سے بالمشافہ انٹرویوز کیے گئے۔

پاکستان ڈیجیٹل مردم شماری 2024 کے فریم ورک پر مبنی اس سروے کا امتیازی وصف یہ ہے کہ اس میں ’’ماہرین یا تجزیہ کاروں‘‘ کی بجائے عام شہریوں کے عملی تجربات کو بنیاد بنایا ہے جنھیں نادرا، اسپتال، تعلیمی اداروں، پولیس اور دیگر حکومتی دفاتر سے روزمرہ واسطہ پڑتا ہے۔

اس رپورٹ کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ پاکستان میں بدعنوانی کے حوالے سے عمومی گمان اور حقیقت کے درمیان ایک واضح خلا موجود ہے۔ 68 فیصد پاکستانی یہ سمجھتے ہیں کہ سرکاری اداروں میں رشوت عام ہے، مگر 27 فیصد ایسے ہیں جنھوں نے ذاتی طور پر کبھی رشوت کا سامنا کیا۔

اقربا پروری کے بارے میں 56 فیصد کا تاثر منفی ہے، مگر براہِ راست تجربہ رکھنے والوں کی شرح 24 فیصد بنتی ہے۔ کرپشن کی ناجائز دولت کے معاملے میں یہ فرق اور بھی نمایاں ہے: 59 فیصد اسے عام سمجھتے ہیں، مگر صرف 5 فیصد نے ایسا کوئی مشاہدہ بچشم خود کیا۔

رپورٹ کے نتائج بدعنوانی کے وجود سے انکار نہیں کرتے، مگر یہ ضرور واضح کرتے ہیں کہ پاکستان میں اصل مسئلہ بدعنوانی کے ساتھ ساتھ اس کے بارے میں عمومی بدگمانی یا پرسیپشن کی زیادتی بھی ہے۔

برسوں کی سیاسی محاذآرائی، احتساب کے متنازعہ استعمال اور مسلسل منفی بیانیے نے ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ نتیجتاً جو کچھ چند اداروں یا چند واقعات تک محدود ہوتا ہے، وہ پورے نظام پر ’’ون سائز فٹ آل‘‘ کی طرح چسپاں کر دیا جاتا ہے۔

رپورٹ کا ایک اہم پہلو اداروں کی گورننس کے فرق کی نشاندہی ہے، جسے عموماً نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ عوامی تاثر کے اعتبار سے ٹریفک پولیس، سرکاری اسپتال اور ایف بی آر (ان لینڈ ریونیو) نسبتاً بہتر نظر آتے ہیں، جب کہ شہریوں کے عملی تجربے کی بنیاد پر نادرا، سرکاری اسپتال اور سرکاری تعلیمی ادارے سب سے بہتر کارکردگی کے حامل ہیں۔

یہ وہ شعبے ہیں جہاں ڈیجیٹلائزیشن، طریقۂ کار کی سادگی اور انسانی صوابدید میں کمی نے شہریوں کے تجربے کو بہتر بنایا۔ اس کے برعکس لینڈ ریکارڈ، کسٹمز، ڈسکوز اور بلدیاتی خدمات جیسے ادارے اب بھی عوامی شکایات کا مرکز ہیں۔

یہ فرق نہایت اہم ہے، کیونکہ یہ اس عمومی مفروضے کو چیلنج کرتا ہے کہ ریاستی مشینری مکمل طور پر ناکام ہے۔ جب کہ حقیقت میں کچھ ادارے اصلاحات کے زیراثر یا بہتر گورننس کی بناء پر بہتر ہیں جب کہ بہت سے ادارے اب بھی پرانی ڈگر پر ہیں۔

علاقائی سطح پر بھی صورتحال یکساں نہیں۔ رپورٹ کے مطابق سندھ میں بدعنوانی کا تاثر اور عملی تجربہ دونوں نسبتاً زیادہ ہیں، جب کہ خیبرپختونخوا میں یہ شرح کم دکھائی دیتی ہے۔ شہری علاقوں میں تاثر دیہی علاقوں کے مقابلے میں زیادہ منفی ہے، اور مردوں میں خواتین کے مقابلے میں بدعنوانی کا ادراک زیادہ پایا جاتا ہے۔

یہ فرق اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ بدعنوانی کو محض قومی مسئلہ سمجھنا درست نہیں، اس کا علاقائی، سماجی اور مقامی اداروں کی گورننس سے بھی گہرا تعلق ہے۔

یہ رپورٹ ایک اور حقیقت بھی سامنے لاتی ہے: بدعنوانی سے نمٹنے والے اداروں اور شہریوں کے درمیان رابطوں اور اعتماد کا فقدان ہے۔ صرف 8 فیصد پاکستانیوں نے کبھی کسی اینٹی کرپشن ادارے سے رابطہ کیا، جب کہ حق معلومات (RTI)، کرپشن رپورٹنگ چینلز اور وسل بلوئر یعنی کرپشن کی نشاندہی کے تحفظ کے قوانین سے آگاہی انتہائی محدود ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ شہری بدعنوانی دیکھتا تو ہے، مگر اسے رپورٹ کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا، وجہ عدم اعتماد، پیچیدہ طریقۂ کار اور ممکنہ نتائج کا خوف ہے۔

یہ مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ جنوبی ایشیا، افریقہ اور مشرقی یورپ کے کئی ممالک میں بھی یہی رجحان دیکھا گیا ہے کہ شہری بدعنوانی کو معمول سمجھ کر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔

دوسری جانب جنوبی کوریا، انڈونیشیا اور ویتنام جیسے ممالک کے تجربات بتاتے ہیں کہ جہاں بنیادی سروس ڈیلیوری میں بہتری آئی، وہاں شہریوں کا ریاست پر اعتماد بھی بتدریج بحال ہوا، اگرچہ عالمی درجہ بندیوں میں فوری بہتری نظر نہیں آئی۔

اس رپورٹ کا ایک اہم نتیجہ یہ ہے کہ ہر منفی تاثر لازماً اتنا ہی حقیقی بھی ہو ، ضروری نہیں۔ ہم بدعنوانی کو کس زاویے سے دیکھنا چاہتے ہیں؟ طے شدہ نتیجے کی نظر سے یا عملی اور زمینی حقائق کی نظر سے جانچنے پر تیار ہیں۔

اگر ہر رپورٹ کو سیاسی ہتھیار بنا لیا جائے تو اصلاح کا راستہ مسدود ہو جاتا ہے۔ تایم اگر شہری تجربے، زمینی حقائق اور گورننس کے فرق کو تسلیم کیا جائے تو بہتری کی گنجائش واضح ہو جاتی ہے۔ ITAP کی یہ رپورٹ زمینی حقیقت کے اظہار کی قابل قدر کوشش ہے۔

کم یا زیادہ کی بحث سے ہٹ کر دیکھیں تو اصل چیلنج یہی ہے کہ ہم کرپشن پر شور وغوغا تک محدود رہنا چاہتے ہیں یا عملی اقدامات پر تیار ہیں۔ اگر عملی اقدامات پر آمادہ ہیں تو یہ رپورٹ ایک عمدہ بنیاد یعنی Baseline فراہم کرتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: طے شدہ نتیجے بدعنوانی کو شہریوں کے یہ ہے کہ کہ شہری جاتا ہے ہیں کہ

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق