آج ہڑتال‘ کارکنان نماز مغرب کے بعد حکومت کے خاتمے کی دعا کریں‘ پی ٹی آئی
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آ باد( مانیٹر نگ ڈ یسک )تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے آج 8 فروری 2026ء کو ملک بھر میں پرامن پہیہ جام اور شٹر بند ہڑتال کی کال کی روشنی میں پی ٹی آئی نے کارکنان اور عوام کیلیے پیغام جاری کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے کارکنان اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پرامن شرکت کریں، ملک بھر میں شٹر ڈاؤن کیا جاہے۔کارکنوں اور عوام کے نام پیغام میں پی ٹی آئی ترجمان نے کہا کہ 8 فروری 2024 ء ایک سیاہ دن تھا جب عام انتخابات میں عوامی مینڈیٹ چوری کیا گیا اورآج اس سیاہ دن کو 2 سال مکمل ہو رہے ہیں۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ پرامن شٹر بند ہڑتال اور پہیہ جام اس لیے بھی ہے کہ پچھلے ڈھائی سال سے عمران خان اور ان کی اہلیہ بے گناہ اور جھوٹے مقدمات میں قید ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے سیکڑوں بے گناہ سیاسی قیدی بھی جیلوں میں ہیں۔پی ٹی آئی اعلامیے کے مطابق آج کا احتجاج اسلام آباد، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور ملک کے دیگر علاقوں میں جاری دہشت گردی، بدامنی اور عوام کے عدمِ تحفظ کے خلاف بھی ایک واضح پیغام ہے۔ کارکنوں کو ہدایت اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ آج مغرب کی نماز اپنی قریبی مساجد میں باجماعت ادا کریں اور نماز کے بعد دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ پاکستان پر موجودہ مسلط شدہ جعلی حکومت کو ختم فرمائے۔کارکنوں کوہدایت کی گئی ہے کہ نماز اور دعا کے بعد اپنے موبائل کی لائٹ یا دستی مشعل، لے کر اپنے اپنے علاقوں کی پرامن مشعل بردار ریلی میں شامل ہوں۔پی ٹی آئی نے ہدایت کی ہے کہ تمام شرکا پرامن طریقے سے احتجاج کریں اور اپنے احتجاج کو پرامن انداز میں ریکارڈ کرائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی اور عوام
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔