ٹائرخراب اور تبدیل کرکے صحافی کو نہ دینا دکاندار کو مہنگا پڑ گیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ( اسٹاف رپورٹر) موٹر سائیکل کا ٹائرخراب اور تبدیل کرکے صحافی کو نہ دینا دکاندار کو مہنگا پڑ گیا۔ صحافی جنید شاہ نے نیو وی آئی پی ٹائر اینڈ ٹیوب اور جنرل ٹائرز کمپنی کو لیگل نوٹس بھیج دیا۔ صحافی نے ٹائر کمپنی و دکاندار سے ٹائر کی تبدیلی یا ادا کی گئی رقم واپس کرنے کا مطالبہ کردیا۔ لیگل نوٹس میں کہا گیا ہے کہ 7 دن میں مطالبہ پورا نہیں کیا گیا تو قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، یکم دسمبر 2025 کو وی آئی پی ٹائرز اینڈ ٹیوب سے موٹر سائیکل کا نیا ٹائر خریدا تھا، جنرل ٹائر کمپنی کا موٹر سائیکل ٹائر 2300 روپے میں خریدا گیا تھا، نئے ٹائر کی خرابی کی صورت میں 6 سے 7 ماہ کی گارنٹی دی گئی تھی، کچھ ہی دن چلنے کے بعد موٹر سائیکل کا ٹائر خراب ہوگیا، نیو وی آئی پی ٹائر اینڈ ٹیوب کو ٹائر واپس کرکے تبدیل کرنے کو کہا گیا ، مگر دکاندار نے ٹائر واپس لینے اور تبدیل کرنے سے انکار کردیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: موٹر سائیکل
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔