سوڈان میں امدادی قافلے پر حملہ‘ 24افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
خرطوم (انٹرنیشنل ڈیسک) سوڈان کے صوبے شمال کردفان میں عالمی غذائی پروگرام کے امدادی قافلے پر ڈرون حملے میں 8بچوں سمیت 24افراد ہلاک ہوگئے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور (اوچھا) کے مطابق یہ ٹرک کوستی سے شمالی کردفان کے دارالحکومت العبید کی جانب بے گھر خاندانوں کے لیے خوراک لے جا رہے تھے، جہاں حملے کے نتیجے میں امدادی سامان تباہ ہو گیا اور قافلے میں آگ لگ گئی۔ سوڈانی حکومت نے اس کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے جنگی جرم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ حکومت اور انسانی حقوق کی تنظیم ایمرجنسی لائرز نے اس حملے کا ذمہ دار ریپڈ سپورٹ فورسز کو ٹھہرایا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ریپڈ سپورٹ فورسز کے ڈرونز نے جان بوجھ کر ان ٹرکوں کو نشانہ بنایا تاکہ عام شہریوں تک خوراک کی رسائی روکی جا سکے۔ سوڈان میں 3سال سے جاری فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کی جنگ میں کردفان کا علاقہ ایک اہم تجارتی اور دفاعی گزرگاہ ہونے کی وجہ سے شدید لڑائی کا مرکز بنا ہوا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر برائے عرب و افریقی امور مسعد بولص نے بھی اس حملے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت مندوں کے لیے بھیجی گئی خوراک کو تباہ کرنا اور امدادی کارکنوں کا قتل ایک ہول ناک فعل ہے، جسے ٹرمپ انتظامیہ ہرگز برداشت نہیں کرے گی اور اس کا محاسبہ کیا جائے گا۔اقوام متحدہ کے مطابق کردفان میں جاری اس بد امنی نے لاکھوں خاندانوں کو قحط کے دہانے پر دھکیل دیا ہے اور صرف حالیہ چند ماہ میں 88 ہزار افراد ہجرت پر مجبور ہوئے ہیں۔ سوڈان کی یہ جنگ اب تک دسیوں ہزار افراد کی جان لے چکی ہے اور 1.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک