پاکستانی جرنیلوں اور سول حکمرانوں کا تصورِ قوم
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سندھ ہائی کورٹ نے طلبہ یونین کی بحالی اور تعلیمی اداروں میں یونین کے انتخابات کے انعقاد سے متعلق آئینی درخواست کو جرمانے کے ساتھ مسترد کردیا۔ عدالت نے درخواست گزار کو ایک ہفتے کے اندر دس ہزار روپے جرمانہ سندھ ہائی کورٹ کے کلینک میں جمع کرانے کا حکم بھی دے دیا۔ دو رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس عدنان الکریم میمن نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ تعلیم پہلے ہی تباہ حال ہے آپ اسے مزید کیوں برباد کرنا چاہتے ہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ طلبہ یونین کی بحالی کا مقصد اور فائدہ کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل عثمان فاروق نے موقف اختیار کیا کہ طلبہ یونین کی بحالی کے لیے باقاعدہ ایکٹ موجود ہے اس پر جسٹس عدنان الکریم نے ریمارکس دیے کہ یہ ایکٹ ہی غلط ہے اور اسے بھی معطل کیا جاسکتا ہے۔ (روزنامہ دنیا کراچی، 29 جنوری 2026ء)
ہم طلبہ یونین کی بحالی کے خلاف فیصلہ دینے والے ججوں کو نہیں جانتے لیکن ان کے بارے میں دو باتیں طے ہیں۔ ایک یہ کہ انہوں نے غلامی اور ناانصافی میں پی ایچ ڈی کیا ہوا ہے۔ دوسری بات یہ کہ دونوں جج صاحبان ہمارے جرنیلوں اور ان کے پالتو سیاست دانوں کے پیدا کردہ معاشرے کا حاصل ہیں۔
تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ حکمران اور رہنما جیسے خود ہوتے ہیں وہ ویسا ہی معاشرہ اور ویسے ہی انسان پیدا کرتے ہیں۔ رسول اکرمؐ انسانی تاریخ کے سب سے بڑے انسان تھے چنانچہ انہوں نے سیدنا ابوبکرؓ، سیدنا عمرؓ، سیدنا عثمانؓ اور سیدنا علیؓ جیسے انسان اور حکمران پیدا کیے ہیں۔ صحابہ کرام خود عظیم انسان تھے اس لیے انہوں نے تابعین جیسے لوگوں کو جنم دیا۔ تابعین خود بڑے لوگ تھے اس لیے انہوں نے تبع تابعین جیسے انسان خلق کیے۔ ملوکیت بہت بدنام ہے مگر عہد ملوکیت میں ہم نے امام غزالی، مولانا رومی، امام رازی، ابن عربی، امام ابوحنیفہ، امام شافعی اور امام مالک جیسے لوگ پیدا کیے۔ برصغیر کے مسلمانوں نے عہد غلامی میں شاہ ولی اللہ، مولانا اشرف علی تھانوی، امام رضا خان بریلوی، اقبال، مولانا مودودی، مولانا محمد علی جوہر، مولانا حسرت موہانی، مولانا ظفر علی خان اور قائداعظم جیسے لوگ پیدا کیے۔ اقبال برصغیر میں ایک اسلامی ریاست کا تصور پیش کرنے والے پہلے انسان نہیں تھے ان سے بہت پہلے عبدالحلیم شرر اور خیری برادران برصغیر میں ایک الگ اسلامی ریاست کا تصور پیش کرچکے تھے مگر بہرحال عوامی قبولیت اقبال ہی کے تصور کو حاصل ہوئی لیکن اقبال کیسا معاشرہ اور کیسی ریاست چاہتے تھے اس کا اندازہ اقبال کی شاعری سے بخوبی ہوجاتا ہے۔ اقبال کے نزدیک آزادی اور آزاد انسان ایک بڑی نعمت تھا اور غلامی کو وہ ایک عذاب اور انسان کی توہین سمجھتے تھے۔ چنانچہ اقبال نے آزادی کا ترانا گاتے ہوئے اور غلامی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے۔
بندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے اک جوئے کم آب
اور آزادی میں بحر بیکراں ہے زندگی
٭٭
غلامی کیا ہے ذوقِ حُسن و زیبائی سے محرومی
جیسے زیبا کہیں آزاد بندے ہے وہی زیبا
٭٭
بھروسا کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر
کہ دنیا میں فقط مردانِ حُر کی آنکھ ہے بینا
٭٭
آزاد کا اندیشہ حقیقت سے منّور
محکوم کا اندیشہ گرفتارِ خرافات
محکوم کو پیروں کی کرامات کا سودا
ہے بندئہ آزاد خود اک زندہ کرامات
محکوم کے حق میں ہے یہی تربیت اچھی
موسیقی و صورت گری و علمِ نباتات
٭٭
محکوم کا دل مردہ و افسردہ و نومید
آزاد کا دل زندہ و پر سوز و طرب ناک
٭٭
آزاد کی اک آن ہے محکوم کا اک سال
کس درجہ گراں سیر ہے محکوم کے اوقات
پاکستان کو اگر اقبال کی فکر کے مطابق بڑے حکمران میسر آتے اور پاکستان اگر جرنیلوں اور ان کے پالتو سیاست دانوں کے چنگل میں نہ پھنستا تو پاکستان کا معاشرہ اقبال کے اس مرد و مومن کا معاشرہ ہوتا جس کے بارے میں اقبال نے کہا ہے۔
تقدیر کے پابند جمادات و نباتات
مومن فقط احکامِ الٰہی کا ہے پابند
٭٭
کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گُم ہے
مومن کی یہ پہچان کہ گُم اس میں ہے آفاق
٭٭
کافر ہے تو شمشیر پر کرتا ہے بھروسا
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
٭٭
ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن نئی شان
کردار میں گفتار میں اللہ کی برہان
جس سے جگرِ لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم
دریائوں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان
یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن
بدقسمتی سے پاکستان پر مسلط جرنیلوں اور ان کے پیدا کردہ سیاست دانوں کا تصور انسان چار سطحوں پر بیان کیا جاسکتا ہے۔ پہلی سطح پر انسان جرنیلوں اور ان کے پیدا کردہ سیاست دانوں کا ’’غلام‘‘ ہے۔ دوسری سطح پر وہ ایک ’’بونا‘‘ ہے۔ تیسری سطح پر وہ ایک ’’بالشتیہ‘‘ ہے اور چوتھی سطح پر وہ ایک ’’کیڑا مکوڑا‘‘ ہے۔ ایسا نہ ہوتا تو پاکستان کی تاریخ کچھ اور ہوتی۔
دیکھا جائے تو پاکستان کی دو بنیادیں تھیں اسلام اور جمہوری جدوجہد لیکن پاکستان کے جرنیلوں نے دونوں تصورات کی دھجیاں اُڑا دیں۔ جنرل ایوب نے اقتدار پر قبضہ کیا تو انہوں نے اسلام کو پسِ پشت ڈال کر ملک پر سیکولرازم مسلط کردیا۔ انہوں نے 1954ء کے آئین کو معطل کردیا۔ انہوں نے صحافت کی تمام آزادیاں چھین لیں اور صحافیوں کی زبانوں پر تالے ڈال دیے گئے۔ جنرل ایوب نے عدلیہ کو بھی نہ بخشا اور 11 سال تک عدلیہ کو یہ جرأت نہ ہوسکی کہ وہ جنرل ایوب کے مارشل لا کو چیلنج کرسکتی۔ چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے انسانوں کا معاشرہ غلاموں، بونوں، بالشتیوں اور حشرات الارض کا معاشرہ بن گیا۔ بالشتیوں اور حشرات الارض کا معاشرہ ہونے کا اندازہ اس بات سے کیجیے کہ 1971ء میں جب مشرقی پاکستان میں فوج کے خلاف جذبات کا طوفان آیا ہوا تھا پاکستان کے معروف صحافی الطاف حسن قریشی اپنے اداریے میں لکھ رہے تھے کہ مشرقی پاکستان میں فوج کے لیے محبت کا زمزمہ بہہ رہا ہے۔ فوج بنگالیوں کو طاقت کے زور پر کچل رہی تھی اور روزنامہ جسارت میں عبدالکریم عابد کے سوا کوئی پاکستانی صحافی بنگالیوں پر فوج کے ظلم کی مذمت نہیں کررہا تھا۔ چنانچہ جب سقوط ڈھاکا ہوا تو پورا مغربی پاکستان حیران رہ گیا۔ اس لیے کہ پاکستان کا پریس قوم کو بتارہا تھا کہ پاکستانی فوج پوری بہادری سے ہندوستان کا مقابلہ کررہی ہے لیکن ہماری فوج کی بہادری کا افسانہ اس وقت عذاب جان بن گیا جب ہمارے 90 ہزار فوجیوں نے بھارت کے سامنے ہتھیار ڈالے۔ ہمارے فوجیوں کا بھارت کے آگے ہتھیار ڈالنے کا عمل بھی اس امر کا عکاس تھا کہ ہمارا معاشرہ اقبال کے مومنوں اور شاہینوں کا نہیں بونوں، بالشتیوں اور حشرات الارض کا معاشرہ تھا۔ ہمارے فوجیوں میں اگر غیرت اور حمیت ہوتی تو وہ لڑتے لڑتے مرجاتے مگر بھارت کے آگے 90 ہزار کی تعداد میں ہتھیار نہ ڈالتے۔ یہ بات بھی تاریخ کے ریکارڈ کا حصہ ہے کہ جنرل ایوب 11 سال ملک پر مسلط رہے مگر غلاموں، بونوں، بالشتیوں اور حشرات الارض کا معاشرہ ان کے خلاف تحریک چلا کر انہیں اقتدار چھوڑنے پر مجبور نہ کرسکا۔
جنرل ایوب گئے تو اس وقت جب جنرل یحییٰ سمیت فوج کے ایک درجن اعلیٰ فوجی اہلکاروں نے جنرل ایوب کے خلاف بغاوت کی۔ جنرل ضیا الحق دس سال ملک پر مسلط رہے اور بونوں اور بالشتیوں کا معاشرہ ان کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔ ان دس برسوں میں کسی اخبار نے جنرل ضیا الحق کے خلاف سچ بولنے کی جرأت نہیں کی۔
الطاف حسین کی سول آمریت کی تاریخ بھی ہمارے سامنے ہے۔ الطاف حسین تین دہائیوں تک کراچی پر مسلط رہے اور اس عرصے میں ان کے خلاف کسی اخبار میں ایک لفظ بھی شائع نہ ہوسکا۔ یہ صرف جسارت تھا جو ان کے خلاف ڈٹ کر کھڑا رہا۔ ارشاد احمد حقانی روزنامہ جنگ کے مقبول کالم نگار تھے۔ ہماری اور ہمارے دوست یحییٰ بن زکریا صدیقی کی لاہور میں ان سے ملاقات ہوئی تو یحییٰ بھائی نے ارشاد احمد حقانی سے کہا کہ آپ سب کے خلاف لکھتے ہیں مگر الطاف حسین کے خلاف کچھ نہیں لکھتے۔ اس کے جواب میں ارشاد احمد حقانی نے کہا کہ میں نے سنا ہے الطاف حسین اختلاف کرنے والوں کو مروا دیتا ہے۔
جنرل پرویز مشرف 9 سال تک ملک پر قابض رہے۔ بونوں اور بالشتیوں کا معاشرہ ان کا بھی کچھ نہ بگاڑ سکا۔ ان کے خلاف وکلا کی تحریک چلی تو اس لیے کہ جنرل کیانی اس تحریک کی پشت پر موجود تھے۔
اب ہم جنرل عاصم منیر کے عہد میں زندہ ہیں۔ اس عہد میں 2024ء کا پورا الیکشن اغوا کرلیا گیا، عمران خان سے دو تہائی اکثریت چھین لی گئی۔ کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کی کامیابی کو ناکامی میں بدل کر فوجی اسٹیبلشمنٹ نے کراچی پر بدعنوان اور متعصب پیپلز پارٹی کے مرتضیٰ وہاب کو مسلط کردیا لیکن جنرل عاصم منیر کی آمریت اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف معاشرہ کچھ نہیں کرپا رہا۔ عمران خان بلاشبہ مقبول ہیں مگر وہ دو سال سے جیل میں پڑے ہیں اور کوئی بڑا احتجاج کرنے میں ناکام ہیں۔ اس لیے کہ جرنیلوں اور ان کے پالتو سیاست دانوں نے معاشرے کو بونوں، بالشتیوں اور حشرات الارض کا معاشرہ بنا کر معاشرے سے اس کی قوت مزاحمت چھین لی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ملک کی ایک اعلیٰ عدالت طلبہ کے جمہوری اور آئینی حق کو بھی تسلیم کرنے پر تیار نہیں۔ یہاں تک کہ وہ یونین کے انتخابات کے لیے درخواست دینے والے وکیل پر 10 ہزار کا جرمانہ عائد کررہی ہے۔ جرنیلوں اور ان کے پالتو سیاست دانوں کا معاشرہ غلاموں، بونوں، بالشتیوں اور حشرات الارض کا معاشرہ نہ بننے تو اور کیا بنے؟
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: طلبہ یونین کی بحالی الطاف حسین ان کے خلاف جنرل ایوب انہوں نے کا تصور وہ ایک ملک پر اس لیے کچھ نہ فوج کے ہے اور
پڑھیں:
مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل
معروف پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال اور ان کے شوہر حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔ حال ہی میں سادگی کے ساتھ نکاح کرنے والے اس جوڑے نے شادی کی باقاعدہ تقریبات سے قبل اہلِ خانہ کی موجودگی میں دعائے خیر کا اہتمام کیا، جس میں دونوں خوش اور پُرجوش دکھائی دیے۔
پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ مومنہ اقبال کی زندگی کا نیا سفر خوشیوں کے ساتھ جاری ہے۔ چند روز قبل مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب نے ایک سادہ اور نجی خاندانی تقریب میں اپنے نکاح کی تصدیق کی تھی، جس کے بعد اب ان کی دعائے خیر کی تقریب کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔
View this post on Instagram
A post shared by @wbs.unfolded
مومنہ اقبال گزشتہ کچھ عرصے سے اپنی ذاتی زندگی کے باعث خبروں میں رہی ہیں۔ شادی کی تیاریوں کے دوران ان کے سابق دوست ثاقب چدھڑ کی جانب سے مبینہ ہراسانی کے واقعات سامنے آئے تھے، جن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ شادی رکوانے کی کوشش کر رہے تھے۔ بعد ازاں معاملہ پولیس تک پہنچا اور اب یہ کیس عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔
اس تمام صورتحال کے باوجود مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب نے اپنی نئی زندگی کا آغاز خوش اسلوبی سے کیا اور حال ہی میں نجی تقریب میں نکاح کر لیا۔
اتوار کے روز جوڑے نے دعائے خیر کی ایک محدود اور خاندانی تقریب کا اہتمام کیا، جبکہ شادی کی دیگر تقریبات کا باقاعدہ آغاز پیر سے متوقع ہے۔
دعائے خیر کی تقریب میں مومنہ اقبال سنہری اور ٹی پنک (ہلکے گلابی) رنگ کے خوبصورت غرارے میں ملبوس نظر آئیں، جس پر نفیس سنہری دبکا ورک کیا گیا تھا۔ ان کا روایتی لباس اور دلکش انداز حاضرین کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ دوسری جانب حمزہ حبیب نے ہلکے ٹی پنک رنگ کے کُرتا شلوار کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کیا، جو ان کی شخصیت پر خوب جچ رہا تھا۔
View this post on Instagram
A post shared by Momina Iqbal (@momina.iqbal)
تقریب کے دوران دونوں انتہائی خوشگوار اور پُرجوش موڈ میں دکھائی دیے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں جوڑے کو اہلِ خانہ اور قریبی عزیزوں کے ساتھ خوشی کے لمحات گزارتے دیکھا جا سکتا ہے۔
مومنہ اقبال کا میک اپ معروف بیوٹی اسٹوڈیو ’ذکیہ رقیہ سیلون‘ کی جانب سے کیا گیا، جس نے ان کی دلکش شخصیت کو مزید نکھار دیا۔
دعائے خیر کی تقریب کی تصاویر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے خوب پسند کی جا رہی ہیں اور مداح نومولود جوڑے کے لیے نیک تمناؤں اور دعاؤں کا اظہار کر رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اداکارہ مومنہ اقبال انٹرٹینمنٹ